اسرائیلی حکام کے مطابق ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز غزہ میں اپنے مقامی کارکنوں کی مکمل فہرست فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث تنظیم کی سرگرمیوں پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں کام کرنے والی تمام امدادی تنظیموں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی تفصیلات فراہم کریں، اور اس شرط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیلی حکام نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی غزہ میں جاری تمام امدادی سرگرمیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے اور کسی بھی تنظیم کو بغیر مکمل معلومات کے کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اسرائیلی اقدام کو غزہ میں امدادی کام روکنے کا محض ایک بہانہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے، جس سے لاکھوں متاثرہ افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی اقدام غزہ میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ تنظیم کے مطابق اسرائیل انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو ایک ناممکن انتخاب پر مجبور کر رہا ہے، جہاں یا تو وہ اپنے بنیادی انسانی اصولوں سے دستبردار ہوں یا پھر ضرورت مند افراد کو امداد کی فراہمی بند کر دیں۔
تنظیم نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور غزہ میں انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

