پاکستان کے کرکٹ شائقین نے حکومت کی جانب سے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کر لیا
پاکستان میں کرکٹ شائقین نے حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کو سراہا ہے جس کے تحت قومی ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں تو شرکت کرے گی، تاہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔ اتوار کے روز حکومت کی جانب سے اس اہم فیصلے کا باضابطہ اعلان کیا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل سامنے آیا اور بڑی تعداد میں صارفین نے حکومتی مؤقف کی حمایت کی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے، لیکن بھارت کے خلاف شیڈول میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں ورلڈکپ میں شرکت اور بھارت کے خلاف میچ کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ملاقات کے بعد حکومتِ پاکستان نے واضح اعلان کیا کہ قومی ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حصہ لے گی، تاہم 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ نہیں کھیلے گی۔ حکومتی اعلان کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کی جانب سے بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا اور زیادہ تر صارفین نے اس فیصلے کو قومی وقار اور خودداری سے جوڑتے ہوئے سراہا۔
سوشل میڈیا پر ایک صارف نے لکھا کہ “عزت و وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں، سب سے پہلے پاکستان”، جبکہ ایک اور صارف جلال شیرازی نے اپنے پیغام میں کہا کہ “پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عزت، سلامتی اور قومی مفاد کسی بھی کھیل سے بڑھ کر ہیں۔ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ ایک خوددار اور ذمہ دار ریاست کی پہچان ہے۔”
ایک اور صارف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “ہم حکومت کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہیں اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔” متعدد صارفین نے اس فیصلے کو جرات مندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل اپنی جگہ اہم ہے، لیکن قومی خودمختاری اور وقار ہر چیز سے بالاتر ہے۔
کرکٹ شائقین کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ عوامی جذبات کی ترجمانی کرتا ہے اور اس سے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ پاکستان اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ بعض صارفین نے یہ بھی کہا کہ قومی ٹیم کو ورلڈکپ میں بھرپور کارکردگی دکھانی چاہیے تاکہ میدان میں اپنی صلاحیتوں سے جواب دیا جا سکے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان کو اپنے گروپ میں بھارت کے علاوہ نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا جیسی ٹیموں کا سامنا کرنا ہے۔ حکومتی فیصلے کے بعد اب تمام تر توجہ قومی ٹیم کی تیاریوں اور دیگر گروپ میچز پر مرکوز ہو گئی ہے۔

