دنیا بھر کے مختلف ممالک نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خودکش دھماکے کی سخت مذمت کرتے ہوئے شہید اور زخمی افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
سعودی عرب نے بھی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون اور یکجہتی کا اعادہ کیا۔ سعودی حکام نے شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
ترکیہ کی جانب سے بھی خودکش دھماکے کی مذمت کی گئی۔ ترک حکام نے شہدا کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر نے دھماکے پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
جرمن سفیر نے بھی قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ روسی سفارت خانے نے حملے کو سفاکانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شہریوں کو نشانہ بنانے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔
