Skip to content
  • لیہ
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • کھیل
  • تجارت
  • ٹیکنالوجی
  • صحت
  • شوبز
  • موسم
  • کالم

ملک میں آن لائن فراڈ کا بڑا سکینڈل، غیر ملکی اور مقامی کمپنیاں ملوث

Web Desk by Web Desk
جون 19, 2025
in بین الاقوامی
0
ملک میں آن لائن فراڈ کا بڑا سکینڈل، غیر ملکی اور مقامی کمپنیاں ملوث

اسلام آباد:ملک میں آن لائن فراڈ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر ایف آئی اے اکنامک کرائم ونگ نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس فراڈ میں مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں اور افراد کے ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایف آئی اے انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق مقدمے میں شامل افراد نے مقامی نجی بینکوں کے تعاون سے ہزاروں لوگوں کو جعلی نوکریوں اور کاروبار کے جھانسے میں لے کر اربوں روپے مالیت کی رقم لوٹی ہے۔ مقدمے میں متعدد غیر ملکی کمپنیوں اور شہریوں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ آن لائن فراڈ کا یہ نیٹ ورک منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہے اور ان افراد کو گرفتار کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فراڈ کا حجم 50 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔رواں سال اب تک آن لائن فراڈ کی ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں، جو ملک میں اس قسم کے جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد کی نشاندہی کرتی ہیں۔

Previous Post

فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جنگ روکنے پر شکریہ کیلئے مدعو کیا تھا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

Next Post

تہران/نئی دہلی :ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کے دوران بھارت کی غیر معمولی خاموشی اور پس پردہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر تہران اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ خود کو طویل عرصے سے ایران کا سٹریٹجک شراکت دار” ظاہر کرنے والا بھارت اس بحران میں نہ صرف خاموش تماشائی بنا رہا بلکہ اس کی بعض سرگرمیوں نے تہران کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چابہار محض ایک علامتی شراکت؟ بھارت نے گزشتہ برسوں میں چابہار بندرگاہ اور دیگر اقتصادی منصوبوں کو ایران کے ساتھ دوستی کی علامت کے طور پر پیش کیا، لیکن جیسے ہی تہران پر دباؤ بڑھا، بھارت نے عملی طور پر خود کو پیچھے کرلیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے ایران سے تعلقات کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف ایک تزویراتی توازن کے طور پر استعمال کیا، نہ کہ ایک حقیقی اتحادی کی حیثیت سے۔ جب اپریل 2025 میں اسرائیل نے ایران کے مختلف حساس مقامات پر حملے کیے، تو عالمی سطح پر مذمت کی ایک لہر اٹھی۔ تاہم، بھارت نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی اور کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق، نئی دہلی نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا، جس نے ایرانی قیادت کو گہرے شکوک میں مبتلا کر دیا۔ خفیہ سرگرمیاں اور RAW کی مداخلت: ایرانی خفیہ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 72 بھارتی شہریوں کو حراست میں لیا ہے، جن پر شبہ ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ایران کے اندر حساس تنصیبات اور سکیورٹی حکمتِ عملی سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کر رہے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ان سرگرمیوں کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے جوڑا گیا ہے، جس کے ذریعے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں ایک غیر رسمی اجلاس کے دوران بھارتی کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران اب بھارت کے ساتھ اپنے معاشی اور دفاعی تعلقات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔ ایک سینئر ایرانی سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہمیں اب یہ سمجھ آ گیا ہے کہ بھارت کا مفاد اصولوں میں نہیں، بلکہ مواقع میں ہے۔” بھارت کی عالمی پالیسی پر سوالات ایران-اسرائیل تنازعے پر ہونے والی G7 میٹنگز اور اقوام متحدہ کی خصوصی نشستوں میں بھارت کی غیر موجودگی نے نئی دہلی کی عالمی حیثیت پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ ایک جانب بھارت مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے، تو دوسری جانب اسلامی دنیا میں اس کی ساکھ تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی "مفاد پرستی” پر مبنی ہے، جہاں اصول، وفاداری یا شراکت داری کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ ایران کے اندر بھارت کی سرگرمیوں کے انکشافات اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے بھارت کو ایک "ناقابل اعتماد” شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ موجودہ حالات میں تہران اور نئی دہلی کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ہر قدم مستقبل کی شراکت داری کا تعین کرے گا۔بھارت نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا: اسرائیل ،ایران کشیدگی میں نئی صف بندیاں بے نقاب

Next Post
تہران/نئی دہلی :ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کے دوران بھارت کی غیر معمولی خاموشی اور پس پردہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر تہران اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ خود کو طویل عرصے سے ایران کا سٹریٹجک شراکت دار” ظاہر کرنے والا بھارت اس بحران میں نہ صرف خاموش تماشائی بنا رہا بلکہ اس کی بعض سرگرمیوں نے تہران کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔  چابہار محض ایک علامتی شراکت؟ بھارت نے گزشتہ برسوں میں چابہار بندرگاہ اور دیگر اقتصادی منصوبوں کو ایران کے ساتھ دوستی کی علامت کے طور پر پیش کیا، لیکن جیسے ہی تہران پر دباؤ بڑھا، بھارت نے عملی طور پر خود کو پیچھے کرلیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے ایران سے تعلقات کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف ایک تزویراتی توازن کے طور پر استعمال کیا، نہ کہ ایک حقیقی اتحادی کی حیثیت سے۔  جب اپریل 2025 میں اسرائیل نے ایران کے مختلف حساس مقامات پر حملے کیے، تو عالمی سطح پر مذمت کی ایک لہر اٹھی۔ تاہم، بھارت نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی اور کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق، نئی دہلی نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا، جس نے ایرانی قیادت کو گہرے شکوک میں مبتلا کر دیا۔  خفیہ سرگرمیاں اور RAW کی مداخلت: ایرانی خفیہ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 72 بھارتی شہریوں کو حراست میں لیا ہے، جن پر شبہ ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ایران کے اندر حساس تنصیبات اور سکیورٹی حکمتِ عملی سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کر رہے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ان سرگرمیوں کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے جوڑا گیا ہے، جس کے ذریعے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔  ایرانی وزارتِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں ایک غیر رسمی اجلاس کے دوران بھارتی کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران اب بھارت کے ساتھ اپنے معاشی اور دفاعی تعلقات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔ ایک سینئر ایرانی سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہمیں اب یہ سمجھ آ گیا ہے کہ بھارت کا مفاد اصولوں میں نہیں، بلکہ مواقع میں ہے۔”  بھارت کی عالمی پالیسی پر سوالات ایران-اسرائیل تنازعے پر ہونے والی G7 میٹنگز اور اقوام متحدہ کی خصوصی نشستوں میں بھارت کی غیر موجودگی نے نئی دہلی کی عالمی حیثیت پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ ایک جانب بھارت مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے، تو دوسری جانب اسلامی دنیا میں اس کی ساکھ تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔  بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی "مفاد پرستی” پر مبنی ہے، جہاں اصول، وفاداری یا شراکت داری کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ ایران کے اندر بھارت کی سرگرمیوں کے انکشافات اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے بھارت کو ایک "ناقابل اعتماد” شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ موجودہ حالات میں تہران اور نئی دہلی کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ہر قدم مستقبل کی شراکت داری کا تعین کرے گا۔بھارت نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا: اسرائیل ،ایران کشیدگی میں نئی صف بندیاں بے نقاب

تہران/نئی دہلی :ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کے دوران بھارت کی غیر معمولی خاموشی اور پس پردہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر تہران اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ خود کو طویل عرصے سے ایران کا سٹریٹجک شراکت دار" ظاہر کرنے والا بھارت اس بحران میں نہ صرف خاموش تماشائی بنا رہا بلکہ اس کی بعض سرگرمیوں نے تہران کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چابہار محض ایک علامتی شراکت؟ بھارت نے گزشتہ برسوں میں چابہار بندرگاہ اور دیگر اقتصادی منصوبوں کو ایران کے ساتھ دوستی کی علامت کے طور پر پیش کیا، لیکن جیسے ہی تہران پر دباؤ بڑھا، بھارت نے عملی طور پر خود کو پیچھے کرلیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے ایران سے تعلقات کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف ایک تزویراتی توازن کے طور پر استعمال کیا، نہ کہ ایک حقیقی اتحادی کی حیثیت سے۔ جب اپریل 2025 میں اسرائیل نے ایران کے مختلف حساس مقامات پر حملے کیے، تو عالمی سطح پر مذمت کی ایک لہر اٹھی۔ تاہم، بھارت نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی اور کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق، نئی دہلی نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا، جس نے ایرانی قیادت کو گہرے شکوک میں مبتلا کر دیا۔ خفیہ سرگرمیاں اور RAW کی مداخلت: ایرانی خفیہ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 72 بھارتی شہریوں کو حراست میں لیا ہے، جن پر شبہ ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد" کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ایران کے اندر حساس تنصیبات اور سکیورٹی حکمتِ عملی سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کر رہے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ان سرگرمیوں کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی "را" سے جوڑا گیا ہے، جس کے ذریعے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں ایک غیر رسمی اجلاس کے دوران بھارتی کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران اب بھارت کے ساتھ اپنے معاشی اور دفاعی تعلقات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔ ایک سینئر ایرانی سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہمیں اب یہ سمجھ آ گیا ہے کہ بھارت کا مفاد اصولوں میں نہیں، بلکہ مواقع میں ہے۔" بھارت کی عالمی پالیسی پر سوالات ایران-اسرائیل تنازعے پر ہونے والی G7 میٹنگز اور اقوام متحدہ کی خصوصی نشستوں میں بھارت کی غیر موجودگی نے نئی دہلی کی عالمی حیثیت پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ ایک جانب بھارت مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے، تو دوسری جانب اسلامی دنیا میں اس کی ساکھ تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی "مفاد پرستی" پر مبنی ہے، جہاں اصول، وفاداری یا شراکت داری کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ ایران کے اندر بھارت کی سرگرمیوں کے انکشافات اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے بھارت کو ایک "ناقابل اعتماد" شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ موجودہ حالات میں تہران اور نئی دہلی کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ہر قدم مستقبل کی شراکت داری کا تعین کرے گا۔بھارت نے ایران کا ساتھ چھوڑ دیا: اسرائیل ،ایران کشیدگی میں نئی صف بندیاں بے نقاب

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Recent Posts

  • انڈہ توڑنے سے قبل کیسے پہچانیں کہ وہ خراب ہے یا نہیں؟
  • روزانہ 2 کپ چائے پینے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟
  • لیہ/ڈپٹی کمشنر آصف علی کی ضلع بھر میں گرین بیلٹس کی تزئین و آرائش اور بحالی کی ہدایت
  • صائم ایوب پی ایس ایل میں ری ٹین ہونے والے مہنگے ترین کھلاڑی بن گئے
  • یہ خطرناک بات ہےکہ لوگ عباد گاہوں میں محفوظ نہیں، پاکستان میں امن کیلئے دعا کرتی ہوں: ملالہ

Recent Comments

  1. پرتگال کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان – ghazwanews.com از بلاول کا ایک بار پھر بی آئی ایس پی کے ذریعے سیلاب متاثرین تک امداد پہنچانے کا مطالبہ
  2. Ikram ul haq khan از تیس ہزار سے زائد سرکاری ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ
  3. غزہ میں اسرائیلی بمباری جاری، پناہ گزینوں کے کیمپ نذر آتش، مزید 45 فلسطینی شہید – ghazwanews.com از تجارتی کشیدگی میں نیا موڑ ، امریکہ کی چین پر ٹیرف کی شرح 245 فیصد کرنے کی تیاری
  4. شہباز از قومی ائیرلائن نے 21 سال بعد اربوں روپے کا خالص منافع حاصل کر لیا
  5. Riaz ul hassan از ’’گندم اگاؤ‘‘ انعامی سکیم کے تحت کاشتکاروں کیلئے مفت ٹریکٹر کی فراہمی
No Result
View All Result
  • لیہ
  • پاکستان
  • بین الاقوامی
  • کھیل
  • تجارت
  • ٹیکنالوجی
  • صحت
  • شوبز
  • موسم
  • کالم