تہران/نئی دہلی :ایران اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی کے دوران بھارت کی غیر معمولی خاموشی اور پس پردہ سرگرمیوں نے ایک بار پھر تہران اور نئی دہلی کے درمیان تعلقات پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ خود کو طویل عرصے سے ایران کا سٹریٹجک شراکت دار” ظاہر کرنے والا بھارت اس بحران میں نہ صرف خاموش تماشائی بنا رہا بلکہ اس کی بعض سرگرمیوں نے تہران کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
چابہار محض ایک علامتی شراکت؟
بھارت نے گزشتہ برسوں میں چابہار بندرگاہ اور دیگر اقتصادی منصوبوں کو ایران کے ساتھ دوستی کی علامت کے طور پر پیش کیا، لیکن جیسے ہی تہران پر دباؤ بڑھا، بھارت نے عملی طور پر خود کو پیچھے کرلیا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے ایران سے تعلقات کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف ایک تزویراتی توازن کے طور پر استعمال کیا، نہ کہ ایک حقیقی اتحادی کی حیثیت سے۔
جب اپریل 2025 میں اسرائیل نے ایران کے مختلف حساس مقامات پر حملے کیے، تو عالمی سطح پر مذمت کی ایک لہر اٹھی۔ تاہم، بھارت نے اس معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی اور کسی قسم کا بیان جاری نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق، نئی دہلی نے بیک ڈور چینلز کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا، جس نے ایرانی قیادت کو گہرے شکوک میں مبتلا کر دیا۔
خفیہ سرگرمیاں اور RAW کی مداخلت:
ایرانی خفیہ اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 72 بھارتی شہریوں کو حراست میں لیا ہے، جن پر شبہ ہے کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی "موساد” کے لیے کام کر رہے تھے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ ایران کے اندر حساس تنصیبات اور سکیورٹی حکمتِ عملی سے متعلق معلومات اسرائیل کو فراہم کر رہے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ان سرگرمیوں کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی "را” سے جوڑا گیا ہے، جس کے ذریعے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے حالیہ دنوں میں ایک غیر رسمی اجلاس کے دوران بھارتی کردار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران اب بھارت کے ساتھ اپنے معاشی اور دفاعی تعلقات کا از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔ ایک سینئر ایرانی سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، "ہمیں اب یہ سمجھ آ گیا ہے کہ بھارت کا مفاد اصولوں میں نہیں، بلکہ مواقع میں ہے۔”
بھارت کی عالمی پالیسی پر سوالات
ایران-اسرائیل تنازعے پر ہونے والی G7 میٹنگز اور اقوام متحدہ کی خصوصی نشستوں میں بھارت کی غیر موجودگی نے نئی دہلی کی عالمی حیثیت پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ ایک جانب بھارت مغرب اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بڑھا رہا ہے، تو دوسری جانب اسلامی دنیا میں اس کی ساکھ تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی "مفاد پرستی” پر مبنی ہے، جہاں اصول، وفاداری یا شراکت داری کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ایران کے اندر بھارت کی سرگرمیوں کے انکشافات اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات نے بھارت کو ایک "ناقابل اعتماد” شراکت دار کے طور پر پیش کیا ہے۔ موجودہ حالات میں تہران اور نئی دہلی کے تعلقات ایک نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، جہاں ہر قدم مستقبل کی شراکت داری کا تعین کرے گا۔

