اسلام آباد : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھارتی سیکرٹری خارجہ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نہ جنگ کا خواہاں ہے اور نہ ہی بات چیت کے لیے بے تاب، تاہم امن کا قیام دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بھارت کو حالیہ پانچ روزہ جنگ میں منہ کی کھانی پڑی اور پاکستان نے اس دوران فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق، بھارت اس وقت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اس نے پائیدار امن کی تمام کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں، یہاں تک کہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کاوشوں کو بھی مسترد کیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاک بھارت تنازعات کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، اور حقیقی امن صرف بامعنی اور مخلص سفارت کاری سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بھارت کی منفی حکمت عملی کا حصہ ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرناک ہے۔بلاول بھٹو نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، اور اس موقع پر صدر ٹرمپ کی جانب سے دیا گیا دوپہر کا کھانا پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری کی علامت ہے۔

