واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو پہلے ہی 60 دن کی مہلت دی جا چکی ہے، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ ہفتہ نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے اور ممکن ہے اس سے پہلے ہی کوئی بڑی کارروائی کی جائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور مستقبل میں اسے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کو کئی بار موقع دیا، لیکن تہران نے عالمی برادری کے مطالبات کو نظرانداز کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آج ایران مذاکرات کی خواہش رکھتا ہے، لیکن امریکا نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ جوہری معاہدہ ناگزیر ہے اور اس حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرے گا یا نہیں، اس بارے میں اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا، تاہم تمام آپشنز زیر غور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران نے جو رویہ اختیار کیا ہے، اس کے نتائج اسے بھگتنا ہوں گے۔ "ہم دیکھ رہے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں کیا پیش رفت ہوتی ہے، لیکن ممکن ہے کہ اس سے پہلے ہی ہم کوئی فیصلہ کن قدم اٹھائیں۔”امریکی صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کے رویے کا ادراک کرے، کیونکہ یہ صرف امریکا نہیں بلکہ خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

