اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ اسرائیلی حملوں سے خطے میں سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب تک عوام پر منفی اثرات نہیں دیکھے گئے، تاہم صورتحال غیر معمولی اور قابل تشویش ہے۔
رافیل گروسی نے بتایا کہ 13 جون کو اسرائیل نے نطنز کے مرکزی پلانٹ اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کیے، جن میں بجلی کے نظام کو تباہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ نطنز میں زیر زمین تنصیبات کو شدید نقصان نہیں پہنچا، مگر اوپری سطح کی تنصیبات تباہ ہو گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اصفہان میں بھی حملے ہوئے جس میں کئی اہم کیمیکل اور یورینیم کی پروسیسنگ سہولیات کو نقصان پہنچا، تاہم تابکاری کی سطح میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں آئی۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے خبردار کیا کہ ایران کے جنوبی نیوکلیئر پاور پلانٹ بوشہر پر حملہ علاقائی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوشہر پر براہ راست حملے سے شدید تابکاری خارج ہو سکتی ہے جو خطے کے لیے بہت بڑا خطرہ ہو گا۔رافیل گروسی نے کہا کہ خطے کے ممالک نے ان سے رابطہ کیا ہے اور انہوں نے بین الاقوامی برادری کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

