اسلام آباد:پاکستان نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکا کے حالیہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کو اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی اور تشدد میں اضافے پر پاکستان کو گہری تشویش ہے، اور یہ سلسلہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کی علامت بن سکتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا تمام فریقین کی ذمہ داری ہے، اور بحران کا واحد حل اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق سفارتکاری اور مذاکرات میں ہے۔
دریں اثناء ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران کے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اسرائیل کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کا دہرا معیار ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں اور پاکستان علاقائی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پاسداری کریں اور طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی کے سنگین اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو سکتے ہیں، جن سے بچنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔

