واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرپشن سکینڈل کا سامنا کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی کو "خوفناک” قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ نیتن یاہو اس وقت یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے حماس سے مذاکرات میں مصروف ہیں، اور اس نازک موقع پر ان پر عدالتی دباؤ ڈالنا ایک سنگین غلطی ہے جو امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ "کیا وہ وزیراعظم جو ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف امریکا کے ساتھ مل کر کامیابیاں حاصل کر چکا ہے، اب اپنا دن عدالتوں میں گزارے گا؟”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا ہر سال اسرائیل کو اربوں ڈالر کی امداد دیتا ہے، جو دنیا میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، اس لیے واشنگٹن کو نیتن یاہو کے خلاف اس عدالتی عمل پر تحفظات ہیں۔ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو پر کرپشن کے مقدمات اسرائیلی عدالت میں زیر سماعت ہیں اور ان کی حکومت حماس کے ساتھ ممکنہ ڈیل کے لیے شدید دباؤ میں ہے۔
دوسری جانب، اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت کے خلاف عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے یرغمالیوں کی واپسی میں ناکامی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی حکومت جنگ کو بلاوجہ طول دے رہی ہے اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ پالیسی نہ صرف خطے میں مزید تباہی کا باعث بن رہی ہے بلکہ اسرائیلی معاشرے کو بھی اندر سے تقسیم کر رہی ہے۔

