اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں لاپتا افراد کے مسئلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں تمام ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز اور دیگر اعلیٰ عدالتی حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاپتا افراد کے معاملے پر ادارہ جاتی ردعمل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے گی جو ایگزیکٹو کے تحفظات پر بھی غور کرے گی۔ علاوہ ازیں، جوڈیشل افسران کو بیرونی مداخلت سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے حفاظتی نظام بنایا جائے گا اور متعلقہ شکایات کو مقررہ وقت میں حل کیا جائے گا۔کمیٹی نے تجارتی مقدمات کے فوری حل کے لیے کمرشل لیٹگیشن کوریڈور کے قیام کی بھی منظوری دی۔ مالیاتی اور ٹیکس سے متعلق آئینی درخواستیں ہائی کورٹس میں ڈویژن بینچز کے ذریعے سنی جائیں گی جبکہ ماڈل کریمنل ٹرائل کورٹس کے ذریعے فوجداری مقدمات کے التوا کو کم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں ضلعی عدلیہ میں یکسانیت کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی اور ججوں کی بھرتی کے معیار کے لیے پروفیشنل ایکسیلنس انڈیکس متعارف کروانے کی منظوری دی گئی۔پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل کی اصلاحات کو سراہا گیا اور زیر سماعت قیدیوں و سرکاری گواہوں کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کے معیارات مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

