واشنگٹن: امریکا نے مزید 32 اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے مطابق ان اداروں میں سب سے زیادہ یعنی 23 ادارے چین سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ بھارت، ایران اور ترکیہ کے کچھ ادارے بھی اس فہرست کا حصہ ہیں۔
امریکا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ ادارے امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے تقاضوں کے منافی سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے، اسی بنا پر انہیں بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ ان اداروں پر پابندی کے بعد یہ کمپنیاں امریکی ٹیکنالوجی یا مصنوعات تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے قدامت پسند تجزیہ کار چارلی کرک کے قتل کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا تشدد اور نفرت کا پرچار کرنے والوں کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایسے غیر ملکی افراد جو نفرت انگیزی یا تشدد کو ہوا دیتے ہیں، ان کے ویزے منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عالمی سطح پر تشدد، انتہا پسندی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف واشنگٹن کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

