شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے نئی جوہری پالیسی پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا نہ صرف جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرے گا بلکہ روایتی فوج کی تعداد میں بھی توسیع کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نئی جوہری پالیسی کا باضابطہ اعلان آئندہ پارٹی اجلاس میں کیا جائے گا۔
کم جونگ ان نے دارالحکومت پیانگ یانگ میں فوجی مشقوں کا بھی معائنہ کیا اور فوجی افسران کو مزید تیاریوں کی ہدایت دی۔ شمالی کوریائی سربراہ نے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس آفس کی ایک تازہ رپورٹ میں شمالی کوریا کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کی حکومت سزائے موت پر عملدرآمد میں تیزی لا رہی ہے اور ایسے افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جو غیر ملکی فلمیں یا ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کم جونگ ان نے اپنے اقتدار کو مزید مستحکم کیا ہے، شہریوں کو جبری مشقت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آزادیِ اظہار پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ یہ رپورٹ تقریباً 300 شمالی کوریائی باشندوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے جنہوں نے اپنے ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالی۔
اقوام متحدہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جائے اور شہریوں کو انصاف اور آزادی دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

