واشنگٹن: امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت پر انحصار کی امریکی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کی جانب سے بارہا نوازنے اور سفارتی و دفاعی تعاون فراہم کرنے کے باوجود بھارت کبھی بھی امریکا کا قابلِ بھروسہ شراکت دار ثابت نہیں ہوا۔
میگزین نے تاریخی حقائق کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ بھارت نے متعدد مواقع پر امریکا کی توقعات کو نظرانداز کیا۔ اس نے روس سے جدید دفاعی نظام خریدا اور امریکی دباؤ کے باوجود ایران میں سرمایہ کاری کی۔ یہاں تک کہ امریکا نے بھارتی ترجیحات کو نظرانداز کرتے ہوئے نئی دہلی کے ساتھ سول نیوکلیئر ڈیل بھی کی، لیکن بھارت اس کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہ ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق بھارت پر یکطرفہ انحصار خطے میں دراڑیں اور جنگ کے خدشات کو بڑھا رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان ایک بار پھر خطے میں امریکا اور چین کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی وہ عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں معاون رہا ہے۔
فارن پالیسی نے لکھا کہ امریکا کو اب پاکستان پر اعتماد کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان کے ساتھ تعاون نہ صرف خطے میں استحکام لا سکتا ہے بلکہ واشنگٹن کے اسٹریٹجک مفادات کو بھی تقویت دے گا۔ مضمون میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ خود دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات اور بھارت سے کشیدگی کم کرنے میں اسلام آباد کے تعاون کا اعتراف کر چکے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ پاکستان میں ریکوڈک جیسے منصوبوں پر امریکی سرمایہ کاری خطے میں استحکام کا باعث بنے گی، جبکہ توانائی اور تجارتی معاہدوں سے دونوں ممالک براہِ راست فائدہ اٹھا سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی کا اہم جزو امریکا اور چین کے ساتھ متوازن تعلقات رکھنا ہے، اور اگر امریکا بھارت پر مرکوز پالیسی جاری رکھتا ہے تو اس کے نتیجے میں واشنگٹن خطے میں کمزور پوزیشن میں چلا جائے گا۔

