دوحہ: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس مضبوط افواج اور جدید ہتھیار موجود ہیں، لہٰذا ہم کسی کو اپنی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملوں کے بعد پاکستان نے صومالیہ کے ساتھ مل کر اقوامِ متحدہ سکیورٹی کونسل سے ہنگامی اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے اور او آئی سی فورم نے بھی بھرپور طور پر مذمت کی ہے۔
ڈار نے کہا، "اسرائیل کا لبنان اور شام کے بعد قطر پر حملہ ناقابلِ قبول ہے — ایک خودمختار ملک پر حملے کا کوئی جواز نہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ محض مذمت کافی نہیں، اب بین الاقوامی برادری کو ایک واضح اور مؤثر لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔
نائب وزیراعظم نے غزہ کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "غزہ کے عوام انتہائی مشکلات کا شکار ہیں، وقت آگیا ہے کہ غیر مشروط جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔” انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو اب اسرائیل کے اقدامات کو روکنا ہوگا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی امیرِ قطر سے ملاقات کے دوران بھی پاکستان نے قطر کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا اظہار کیا اور کہا گیا کہ "پاکستان مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے۔”
پانی کے مسئلے اور مستقبل کی جنگوں کے حوالہ سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم طے ہے اور بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ "پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پانی روکنے کے عمل کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا،” انہوں نے کہا۔
ڈار نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "جو ملک دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہے، اس پر الزام لگانا باعثِ حیرت ہے۔”

