نیویارک: اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ اسرائیلی حکام، بشمول وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو، نے اس نسل کشی پر نہ صرف زور دیا بلکہ اس کی کھلم کھلا حمایت بھی کی۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی افواج نے گھروں، شیلٹرز اور محفوظ مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں میں نصف سے زیادہ خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔
انکوائری کمیشن کی سربراہ ناوی پیلی (Navi Pillay) نے کہا:
"غزہ میں نسل کشی جاری ہے۔ ہم نے نیتن یاہو، اسرائیلی صدر اور سابق وزیر دفاع یواف گیلانٹ کے بیانات کا جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ یہ تینوں اسرائیلی ریاست کے نمائندے ہیں، اس لیے اسرائیل کو نسل کشی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔”
کمیشن نے اپنی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ اسرائیلی فوج اور حکام فلسطینیوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو نسل کشی کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔ادھر اسرائیلی حکام نے کمیشن کی تحقیقات کے آغاز سے ہی اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی تل ابیب نے اس رپورٹ کو جھوٹا اور توہین آمیز قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

