محکمہ خزانہ کے مطابق یہ پابندیاں اُن اداروں اور افراد پر لگائی گئی ہیں جو ایرانی فوج کو مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں موجود عناصر بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی 10 کروڑ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی کی منتقلی میں کردار ادا کیا، جو ایران کی حکومت اور فوج کے فائدے کے لیے استعمال کی گئی۔
امریکی پابندیوں کے تحت مذکورہ افراد اور اداروں سے امریکی شہری اور کمپنیاں کوئی تجارتی تعلق نہیں رکھ سکیں گی۔

