شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات کا اعلان
شام میں برسوں کی خونریز خانہ جنگی اور بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلا بڑا سیاسی قدم اٹھاتے ہوئے پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ہائر کمیٹی فار الیکشنز آف پیپلز اسمبلی کے مطابق عوامی اسمبلی کے نئے ارکان کے لیے ووٹنگ 5 اکتوبر کو ملک کے تمام انتخابی اضلاع میں بیک وقت ہوگی۔
اعلان کے مطابق پارلیمان کی 21 نشستوں میں سے ایک تہائی پر عبوری صدر احمد الشرع اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت اراکین مقرر کریں گے، جبکہ باقی نشستوں پر عوام براہِ راست ووٹ کے ذریعے نمائندے منتخب کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں طویل خانہ جنگی کے بعد شامی باغی عسکریت پسندوں نے بشار الاسد حکومت کے خلاف فیصلہ کن حملہ کیا تھا۔ 8 دسمبر کو دارالحکومت دمشق پر قبضے کے بعد بشار الاسد ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے، جس کے ساتھ ہی ان کی دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ ہوگیا۔
بشار الاسد کے فرار کے بعد باغی گروپ تحریر الشام ملیشیا کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے اعلان کیا تھا کہ پُرامن انتقالِ اقتدار تک سابق وزیراعظم محمد غازی الجلالی عبوری طور پر تمام ریاستی اداروں کی نگرانی اور حکومتی امور چلائیں گے۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ انتخابات شام کے مستقبل کے لیے نہ صرف ایک اہم سنگ میل ہیں بلکہ برسوں سے جاری خونریزی کے بعد سیاسی استحکام کی جانب پہلا عملی قدم بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔

