ترکی کے ساحلی علاقے ایوالک میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے 138 قدیم پتھر کے اوزار دریافت کیے ہیں جو ابتدائی انسانوں کی ترقی اور تکنیکی مہارتوں کے بارے میں اہم شواہد فراہم کرتے ہیں۔
یہ اوزار ایک خاص پتھر تراشنے کی تکنیک "لیوالوآس طریقہ” کے ذریعے بنائے گئے، جسے قدیم انسانوں کی نسل نیاندرتھالز استعمال کرتی تھی۔ اس تکنیک میں پتھر کو مخصوص انداز سے تراش کر شکار، دفاع اور روزمرہ ضروریات کے لیے مختلف اوزار تیار کیے جاتے تھے۔
ماہرین کے مطابق دریافت شدہ اوزاروں میں چھوٹی اور بڑی کلہاڑیاں، خنجر اور دیگر کاٹنے والے آلات شامل ہیں۔ یہ اوزار تقریباً 200 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے 10 مختلف مقامات سے ملے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ علاقہ قدیم دور میں انسانی آبادیوں کا مسکن رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایوالک کا ساحلی خطہ اس دور میں انسانوں کے یورپ تک ہجرت کے راستے میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ ماضی میں جب سمندر کی سطح کم تھی تو یہ علاقہ زمینی راستوں کے ذریعے یورپ تک رسائی فراہم کرتا تھا، جس سے انسانوں کی قدیم نقل و حرکت ممکن ہوئی۔
یہ دریافت اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ قدیم انسان اپنے ماحول کے مطابق اوزار بنا کر روزمرہ زندگی کے مختلف کام سرانجام دیتے تھے، جو انسانی ترقی کے ابتدائی مراحل کو سمجھنے میں نئی جہت فراہم کرتا ہے۔
