امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں ایک بار پھر پاک بھارت جنگ بندی کا موضوع چھیڑ دیا۔ ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں کے سامنے دعویٰ کیا کہ امریکا کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور ان کے بقول یہ کام اقوام متحدہ کے تعاون کے بغیر انجام پایا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایک سال پہلے شدید مشکلات کا شکار تھا لیکن اب عالمی سطح پر عزت و تکریم واپس پا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا میں غیر قانونی داخلے کے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے نہ صرف پاک بھارت بلکہ سات مختلف جنگوں کو براہِ راست متعلقہ ممالک کے قائدین سے بات چیت کے ذریعے رکوایا اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کوئی عملی مدد شامل نہیں تھی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’میں سوچتا ہوں کہ اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟ جنگ بندی کے موقع پر اقوام متحدہ کہاں تھی؟‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ عالمی ادارے میں اصلاحات کے خواہاں ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ فرانسیسی صدر نے پاک بھارت جنگ کو حالیہ دہائیوں کی سب سے شدید فضائی لڑائیوں میں شامل کیا ہے۔
ٹرمپ نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے ایک بڑا انعام ہوگا، لیکن جنگ بندی کے لیے حماس کو تمام یرغمال اسرائیلیوں کو رہا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ حماس نے امن کی متعدد مناسب پیش کشوں کو مسترد کیا اور کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام حماس کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
روس یوکرین تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے چین، بھارت اور یورپ پر روس سے تجارت جاری رکھنے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ روس سے تیل خریدنے والے ممالک اس جنگ کو بڑھا رہے ہیں اور یورپ کو روسی توانائی کی تمام خریداری فوری طور پر بند کر دینی چاہیے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر روس نے امن معاہدہ نہ کیا تو اس پر بھاری ٹیرف لگایا جائے گا۔
اپنے خطاب کے آخر میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ’’سب سمجھتے ہیں کہ مجھے نوبیل انعام ملنا چاہیے‘‘ کیونکہ عالمی امن کے لیے ان کی کوششیں نمایاں ہیں۔

