پنجاب، سندھ اور جنوبی علاقوں میں سیلابی صورتحال برقرار، دریا برد اور زمینی کٹاؤ سے تباہی
لاہور، پاکپتن، سکھر: پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں دریاؤں کے کناروں پر سیلاب اور زمینی کٹاؤ کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس سے درجنوں بستیاں ڈوب گئیں اور کئی سڑکیں اور پل شدید متاثر ہیں۔ پاکپتن میں دریائے ستلج کے مسلسل کٹاؤ سے گاؤں سوڈا مکمل طور پر دریا برد ہوگیا جبکہ چک باقر کے 50 گھر خطرے کی زد میں آ گئے۔
جلالپور پیروالا کی درجنوں بستیوں میں اب بھی پانی کھڑا ہے اور شہریوں کو گھروں کو واپس جانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ دریائے چناب اور ستلج کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نوراجہ بھٹہ کے مقام پر شگاف بند کرنے کا کام جاری ہے مگر مکمل بحالی میں وقت لگے گا۔
موٹر وے پولیس کے مطابق ایم 5 موٹر وے ملتان سے جھانگڑا انٹرچینج تک 15ویں روز بھی بند ہے کیونکہ جلالپور پیروالا سے جھانگڑال تک 22 کلومیٹر طویل حصہ شدید متاثر ہوا، 73 گزرگاہوں میں سے 15 مکمل طور پر تباہ ہیں اور دونوں اطراف پانی کھڑا ہونے کے باعث مرمت ممکن نہیں۔
ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ موٹر وے کے علاوہ قومی اور ضلعی سطح کی 200 سے زائد سڑکیں بھی متاثر ہیں جبکہ بعض مقامات پر ٹریفک بحالی کے لیے عارضی لوہے کے پل لگائے جا رہے ہیں۔ جلالپور لودھراں روڈ، گڑھ مہاراجہ شورکوٹ روڈ اور پل، سیت پور اور علی پور کے پل بھی سیلاب کے باعث بند ہیں۔
دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے جس سے ٹھٹہ اور سجاول کے کچے کے 10 سے زائد دیہات زیرِ آب آگئے ہیں، کئی ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی ڈوب چکی ہیں۔ مٹیاری اور سعید آباد کے کچے کے علاقے بھی متاثر ہیں جہاں مقامی لوگ کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ مانجھند کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس سے تحصیل مانجھند کی 6 یونین کونسلز کے 28 دیہات شدید متاثر ہیں۔
سیہون میں لکی شاہ صدر سے پیٹارو تک 70 کلومیٹر تک ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف پانی موجود ہے، جبکہ سیہون سے جامشورو تک انڈس ہائی وے بھی کئی مقامات پر پانی میں ڈوب چکی ہے، جس سے متعدد دیہات کا شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
پنجاب حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد اور نارووال میں ریکارڈ بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ نے تباہی مچائی جبکہ دریائے ستلج، بیاس اور راوی میں 40 سالہ ریکارڈ سیلاب نے صوبے کے 27 اضلاع کو متاثر کیا۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد بحالی کے لیے سروے شروع کر دیا ہے، تاہم سڑکوں اور پلوں کی مکمل مرمت اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ عرفان کاٹھیا کے مطابق دریائے ستلج کا پانی دریائے چناب میں شامل ہونے میں مزید ایک ہفتہ لگے گا جس کے بعد مکمل بحالی ممکن ہو سکے گی، تاہم جنوبی پنجاب میں سیکڑوں کلومیٹر کے علاقے اب بھی زیرآب ہیں اور متاثرہ دیہات میں امدادی سامان عارضی راستوں سے پہنچایا جا رہا ہے۔

