اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ قطر پر حملے کا ردعمل نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس پر دونوں ممالک کافی عرصے سے بات چیت کر رہے تھے۔
برٹش نژاد امریکی صحافی مہدی حسن کو انٹرویو دیتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور ماضی میں بھی پاکستانی افواج سعودی عرب میں خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق آج بھی پاکستانی افواج سعودی سرزمین پر موجود ہیں اور اس معاہدے نے پرانے دفاعی تعاون کو باضابطہ شکل دے دی ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے بعد دنیا کی کسی ایٹمی طاقت نے ہتھیار استعمال کرنے کی جرات نہیں کی، یہی عالمی امن کے لیے حوصلہ افزا امر ہے۔ جمہوری عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جمہوریت مکمل نہیں مگر ترقی کی جانب گامزن ہے، میں خود بغیر کسی الزام کے چھ ماہ جیل میں رہا ہوں لیکن یہ جمہوری سفر کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ سعودی دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اعلامیہ کے مطابق یہ معاہدہ کسی بھی ایک ملک پر جارحیت کی صورت میں اسے دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کرے گا اور مشترکہ دفاع و سلامتی کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس کا مقصد دو طرفہ تعاون بڑھانا اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

