نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے خطاب کا مسلم ممالک سمیت کئی دیگر ریاستوں کے رہنماؤں اور نمائندوں نے مؤثر انداز میں بائیکاٹ کیا، جس سے عالمی سطح پر اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف شدید ردعمل نمایاں طور پر سامنے آیا۔
جیسے ہی نیتن یاہو خطاب کے لیے پوڈیم پر آئے تو درجنوں مندوبین یکے بعد دیگرے اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہال سے باہر نکل گئے۔ اجلاس ہال میں نمایاں خالی نشستوں نے نہ صرف ماحول کو بوجھل کر دیا بلکہ اسرائیلی وزیراعظم کے چہرے پر بھی پریشانی کے آثار نمایاں دکھائی دیے۔ اس موقع پر موجود صحافیوں نے رپورٹ کیا کہ نیتن یاہو کے خطاب کے دوران ہال میں ایک غیر معمولی خاموشی اور تناؤ کی کیفیت تھی۔
یہ بائیکاٹ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت، انسانی حقوق کی پامالی اور غزہ سمیت مقبوضہ علاقوں میں مسلسل فوجی کارروائیوں کے خلاف ایک علامتی مگر بھرپور احتجاج تھا۔ مسلم ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ بعض یورپی اور لاطینی امریکی ممالک کے مندوبین نے بھی اجلاس سے واک آؤٹ کر کے اسرائیلی پالیسیوں پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
مبصرین کے مطابق اس اجتماعی بائیکاٹ نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو اجاگر کیا ہے جو اسرائیل کی یکطرفہ کارروائیوں اور فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف دن بدن مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو عالمی سطح پر اسرائیل کے لیے ایک سفارتی پیغام قرار دیا ہے کہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اقوام متحدہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، کیونکہ بڑھتی ہوئی عالمی مخالفت اسرائیل کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کے لیے دباؤ میں لا سکتی ہے۔

