سکھر میں بااثر وڈیرے کے مبینہ تشدد سے زخمی ہونے والی اونٹنی کے جبڑے کی کراچی میں کامیاب سرجری کر دی گئی ہے، تاہم اس کے جسم پر لگنے والے شدید زخموں کے باعث اس کی ایک پچھلی ٹانگ کاٹنی پڑی۔ جیو نیوز کے مطابق یہ آپریشن کراچی میں ماہر ویٹرنری ڈاکٹروں کی ٹیم نے کیا، جس میں متاثرہ اونٹنی کے جبڑے کا علاج کیا گیا اور اس کی جان بچانے کے لیے کئی گھنٹے طویل جدوجہد کی گئی۔
سی ڈی آر ایس (کاؤنٹری ڈیزاسٹر ریلیف سروس) کی ڈائریکٹر سارہ جہانگیر نے بتایا کہ آپریشن کے دوران پوری کوشش کی گئی کہ اونٹنی کا خون کم سے کم ضائع ہو۔ انہوں نے کہا کہ اونٹنی کی پچھلی ٹانگ شدید کچلی ہوئی تھی اور زخم میں ہونے والے انفیکشن نے صورتحال مزید خطرناک بنا دی تھی، اس لیے ڈاکٹروں کے پاس ٹانگ کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق جان بچانے کے لیے یہ قدم انتہائی ضروری تھا اور اب اونٹنی کی مکمل صحت یابی کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔
سارہ جہانگیر نے مزید بتایا کہ ٹیم اب اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ اونٹنی کی کاٹی گئی ٹانگ کے لیے کوئی پائیدار حل تلاش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اونٹنی کے ایکس ریز اور تصاویر مصنوعی اعضا بنانے والی کمپنی کو بھی بھیجے جا رہے ہیں تاکہ اس کے لیے ایک مناسب مصنوعی ٹانگ تیار کی جا سکے۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ چند روز قبل سکھر میں پیش آیا تھا جہاں ایک بااثر وڈیرے نے مبینہ طور پر اونٹنی پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں اس کے جبڑے اور ٹانگ کو شدید نقصان پہنچا۔ واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی دباؤ کے تحت زخمی اونٹنی کو فوری طور پر کراچی منتقل کیا گیا تاکہ اس کا علاج کیا جا سکے۔
جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس واقعے کو ظلم کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ اونٹنی کو انصاف دلانے کے لیے قانونی کارروائی ضروری ہے۔ سارہ جہانگیر نے بھی مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کریں تاکہ آئندہ کسی جانور پر اس طرح کے مظالم نہ ڈھائے جا سکیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ اونٹنی کا آپریشن کامیاب رہا ہے لیکن اس کی مکمل صحت یابی میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں، اور ڈاکٹروں کی مسلسل دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ خصوصی خوراک اور علاج کی ضرورت رہے گی۔ شہریوں اور سماجی کارکنوں نے امید ظاہر کی ہے کہ متاثرہ اونٹنی نہ صرف صحت یاب ہوگی بلکہ مصنوعی ٹانگ کی مدد سے دوبارہ چلنے کے قابل بھی بنائی جا سکے گی۔

