اسلام آباد: چین کے آزاد بجلی گھروں (IPPs) کو واجب الادا صلاحیت کی ادائیگیوں کے مسئلے کو حل کیے بغیر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی 14ویں مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) کا اجلاس بیجنگ میں اختتام پذیر ہوگیا۔ اجلاس میں پاک چین شراکت داری ایک نئے اور تاریخی مرحلے میں داخل ہوئی اور **سی پیک فیز ٹو (Phase-II)** کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا گیا۔ تاہم ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کے لیے چین نے پاکستان سے واضح کمٹمنٹ طلب کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں چینی بجلی گھروں کو واجب الادا صلاحیت کی ادائیگیوں کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا، کیونکہ اسلام آباد چینی کمپنیوں کو ادائیگیوں کی مدت بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔ دوسری جانب چین نے ایم ایل ون کی جزوی فنانسنگ کے لیے پاکستان سے موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تناظر میں پختہ یقین دہانی مانگی ہے، تاکہ مالیاتی خطرات کم کیے جا سکیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس کے بعد بتایا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان میں صنعتی ترقی، ٹیکنالوجی، پائیداری اور مشترکہ خوشحالی کا نیا دور ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق یہ ہم آہنگی صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ اسے ایک ایکشن پلان کی صورت میں حتمی شکل دی جا چکی ہے، جس پر ستمبر 2025 میں دستخط ہوئے۔ اس ایکشن پلان کا مقصد ایک ایسے مستقبل کی تعمیر ہے جس میں چین اور پاکستان قریبی معاشی اور سماجی شراکت دار بن سکیں۔
فیز ٹو میں صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز (SEZs)، زراعت کی جدید کاری، بحری وسائل کی ترقی، معدنیات کے بڑے منصوبے، ایم ایل ون ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن، قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) کی بحالی اور گوادر کی بندرگاہ کی ترقی جیسے منصوبے شامل ہیں۔ احسن اقبال نے ایم ایل ون اور کے کے ایچ منصوبوں کی فوری تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں منصوبے پاکستان اور چین کے درمیان بلا تعطل روابط اور خطے کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔
احسن اقبال نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ فیز ٹو پانچ بڑی راہداریوں پر مبنی ہوگا جن میں ترقی، اختراع (Innovation)، سبز ترقی، روزگار و معیارِ زندگی اور علاقائی روابط شامل ہیں۔ یہ تمام راہداریاں پاکستان کے **یوران 5Es فریم ورک** (برآمدات، ای-پاکستان، توانائی و ماحولیات، مساوات اور بااختیاری) کے اہداف سے ہم آہنگ ہوں گی۔
انہوں نے تجویز دی کہ فیز ٹو کے ابتدائی تین برسوں کے دوران ہر چھ ماہ بعد جے سی سی اجلاس اور ہر سہ ماہی میں جوائنٹ ورکنگ گروپس کے اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ منصوبوں کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔ احسن اقبال نے اس موقع پر چین کے نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (NDRC) کے وائس چیئرمین مسٹر زو ہائی بئنگ اور دیگر چینی حکام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ 14ویں جے سی سی محض ماضی کا جائزہ نہیں بلکہ مستقبل میں تعاون کو گہرا کرنے اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔
سی پیک کے اس نئے مرحلے سے پاکستان میں صنعتی سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع، علاقائی رابطوں اور تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، تاہم ماہرین کے مطابق چینی آئی پی پیز کی ادائیگیوں کا معاملہ جلد حل نہ کیا گیا تو بڑے منصوبوں کی رفتار پر اثر پڑ سکتا ہے۔

