نیویارک: چین، ایران، پاکستان اور روس کے وزرائے خارجہ کے چوتھے چار فریقی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اجلاس گزشتہ روز روس کی دعوت پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر منعقد ہوا، جس میں چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ نے افغانستان کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں افغان ریاست کے استحکام، علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے لیے مشترکہ اعلامیہ منظور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق فریقین نے افغانستان کو ایک آزاد، متحد اور پرامن ریاست کے طور پر حمایت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دہشت گردی، جنگ اور منشیات سے پاک افغانستان کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے افغان حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کریں۔
مزید کہا گیا کہ افغانستان کی معیشت کی بحالی اور بہتری کے لیے مؤثر علاقائی اقدامات کی ضرورت ہے۔ فریقین نے افغانستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فروغ، علاقائی روابط کو وسعت دینے اور انسانی بنیادوں پر ہنگامی امداد کے سلسلے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اعلامیے میں افغانستان میں دہشت گردی سے متعلق سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور افغان پناہ گزینوں کی باعزت وطن واپسی میں سہولت فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ فریقین نے افغان لڑکیوں کو تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع تک رسائی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ افغانستان میں پائیدار امن اور ترقی کے امکانات کو فروغ دیا جا سکے۔

