اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران ان کے پیچھے بیٹھی ایک نامعلوم خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اس تصویر نے نہ صرف صارفین میں سوالات کو جنم دیا بلکہ پاکستانی وفد کی پروٹوکول پالیسی پر بھی بحث چھیڑ دی۔
سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف تقریر کر رہے ہیں اور ان کے بالکل پیچھے ایک خاتون براجمان ہیں۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ یہ خاتون کون ہیں، پاکستانی وفد کے ساتھ ان کی موجودگی کا کیا جواز ہے اور انہیں اہم سرکاری اجلاس میں وزیر دفاع کے پیچھے کیوں بٹھایا گیا؟
سوشل میڈیا پر بحث کے بعد وزیر دفاع خاموش نہ رہ سکے اور ایکس (سابق ٹوئٹر) پر وضاحت پیش کی۔ انہوں نے لکھا کہ وزیراعظم مصروف تھے اس لیے ان کی جگہ انہوں نے سلامتی کونسل میں تقریر کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خاتون کون ہیں اور میرے پیچھے کیوں بیٹھیں، اس کا فیصلہ دفتر خارجہ کا اختیار تھا اور ہے۔ یہ ان کا ڈومین ہے، میرے لیے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔
خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں فلسطین کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کے خیالات اسرائیل اور صیہونیت کے حوالے سے واضح اور سخت ہیں۔ ان کے مطابق فلسطین کے معاملے پر ان کا مؤقف ہمیشہ دو ٹوک رہا ہے اور ان کا سوشل میڈیا ریکارڈ اس کی گواہی دیتا ہے۔
وزارت خارجہ نے بھی معاملے پر باضابطہ بیان جاری کیا اور وضاحت کی کہ متعلقہ خاتون پاکستان کے اس آفیشل وفد کا حصہ نہیں تھیں جسے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے منظور کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیر دفاع کی تقریر کے دوران بھی اس خاتون کے بیٹھنے کی منظوری نہ تو وزیر خارجہ نے دی اور نہ ہی وزیر دفاع نے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے حق میں بھرپور سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اس صورتحال کو پروٹوکول کی ناکامی قرار دیا جبکہ کچھ نے اسے سیکیورٹی کے پہلو سے تشویش ناک قرار دیا۔ فی الحال اس خاتون کی شناخت اور ان کی موجودگی کی اصل وجہ سامنے نہیں آ سکی، تاہم وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ معاملے کی وضاحت صرف ان کے دائرہ اختیار میں ہے اور اس پر مزید معلومات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

