خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو ادائیگی کے لیے کرپٹو کرنسی کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی چمکنی دھماکے سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذہبی شخصیت پر حملے میں ملوث ملزمان کو ادائیگی کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی گئی اور اس کارروائی میں داعش کا ایک بڑا نیٹ ورک سرگرم تھا جسے گزشتہ ماہ پکڑا گیا۔
رپورٹ کے مطابق غیرملکی خودکش حملہ آور کے سہولت کاروں کو کرپٹو کرنسی افغانستان سے کوئٹہ بھیجی گئی، جہاں اسے ای والٹ کے ذریعے پاکستانی روپے میں تبدیل کیا گیا۔ بعد ازاں یہ رقم لاہور اور کرک منتقل کی گئی۔ سہولت کار اور ہینڈلرز پشاور، کرک، کوئٹہ، ضلع خیبر اور کوہاٹ میں موجود تھے اور نیٹ ورک کے مختلف حصے آپس میں مربوط انداز میں سرگرم رہے۔
یہ نیٹ ورک 11 مئی کے اس خودکش حملے سے منسلک تھا جس میں 22 سالہ غیرملکی خودکش بمبار عمران گولیف نے پولیس موبائل وین کو نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے کا اصل ہدف ایک اہم سیاسی و مذہبی شخصیت تھی۔ خودکش حملہ آور گزشتہ سال 24 اپریل کو نجی پرواز کے ذریعے اسلام آباد ائیرپورٹ پہنچا، جہاں وہ دو دن مقیم رہا اور بعد میں لاہور میں بھی دو روز گزارے۔
سی ٹی ڈی کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ غیرملکی بمبار کے چار ساتھی بھی پاکستان آئے تھے جن کی تلاش جاری ہے۔ اب تک اس نیٹ ورک کے سات دہشتگردوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ باقی سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے۔

