دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا گیا ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی 2025 کا فائنل کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ بھارت نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر نویں مرتبہ ایشیا کپ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ 41 سالہ ایشیا کپ کی تاریخ میں پاکستان اور بھارت کسی فائنل میں آمنے سامنے آئے۔ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ اس تاریخی ٹاکرے کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھے اور دبئی کا اسٹیڈیم مکمل طور پر کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس ہارنے کے بعد بیٹنگ شروع کی۔ اوپنرز نے محتاط انداز میں آغاز کیا اور چند خوبصورت اسٹروکس بھی کھیلے، مگر بھارتی بولرز نے اپنی شاندار لائن اور لینتھ سے پاکستانی بیٹرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔
درمیانی اوورز میں بھارتی اسپنرز نے دباؤ مزید بڑھایا اور پاکستانی بیٹنگ لائن کو رنز کے لیے ترساتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پوری ٹیم 19 اعشاریہ ایک اوور میں صرف 146 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ کوئی بھی بیٹر نصف سنچری مکمل نہ کرسکا۔
147 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بھارت نے پراعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کیا۔ اوپنرز نے تیز رنز بناتے ہوئے ابتدائی دباؤ کم کیا لیکن پاکستانی بولرز نے وقفے وقفے سے وکٹیں حاصل کرکے میچ کو دلچسپ بنا دیا۔
ایک موقع پر بھارت کو جیت کے لیے 18 گیندوں پر 30 رنز درکار تھے اور شائقین کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ تاہم بھارتی مڈل آرڈر نے تجربے کا مظاہرہ کرتے ہوئے جارحانہ شارٹس کھیلے اور آخری اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر ہدف حاصل کرلیا۔
میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے اعتراف کیا کہ ٹیم آخری اوورز میں اپنی حکمت عملی پر عمل نہیں کرسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم نے مجموعی طور پر اچھا کھیل پیش کیا لیکن بھارت کے خلاف اختتامی لمحات میں وہ کارکردگی نہیں دکھا سکے جس کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی ٹیم کی کوششوں پر مکمل فخر ہے۔
سلمان علی آغا نے فائنل کے بعد بھارتی کھلاڑیوں کے رویے پر بھی سخت الفاظ میں تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے ٹرافی نہیں لی تو کیسے دی جائے گی؟ یہ کھیل کی توہین ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہاتھ نہ ملانا کرکٹ کے آداب کے خلاف ہے اور یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ امید ہے کہ دیگر ٹیمیں مستقبل میں ایسا رویہ اختیار نہیں کریں گی۔
تقریب کے دوران پاکستانی کپتان نے حوصلہ دکھاتے ہوئے رنرز اپ ٹیم کا چیک وصول کیا اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہے، اصل کامیابی یہ ہے کہ ٹیم نے اپنی پوری محنت اور جذبے کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔
پاکستانی شائقین اگرچہ فائنل کے نتیجے پر مایوس دکھائی دیے لیکن سوشل میڈیا پر ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔ شائقین نے نوجوان کھلاڑیوں کی محنت اور عزم کو پاکستان کرکٹ کا روشن مستقبل قرار دیا۔
پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں کئی مضبوط ٹیموں کو شکست دے کر پہلی بار بھارت کے ساتھ فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔ دوسری جانب بھارت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بڑے ایونٹس میں تجربہ اور اعصاب پر قابو پانا کامیابی کی کلید ہے۔
یہ ایشیا کپ فائنل نہ صرف ایک کرکٹ میچ تھا بلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے دونوں ممالک کے شائقین کے دلوں کو جوڑ دیا۔ بھارت نے نویں بار ایشیا کپ جیت کر اپنی برتری ثابت کی، مگر پاکستان نے بھی دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ مستقبل میں کسی بھی بڑے ایونٹ میں ٹائٹل جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

