دبئی میں اختتام پذیر ہونے والے ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی کے بعد بھارتی ٹیم کے رویے نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بھارت نے اگرچہ فائنل میں پاکستان کو شکست دے کر نویں مرتبہ ایشیا کپ جیتا، لیکن ٹرافی وصول نہ کرنے کے واقعے نے سوشل میڈیا پر شائقین کو حیران اور برہم کردیا۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی کھلاڑیوں نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ٹورنامنٹ کی اصل ٹرافی لینے سے انکار کردیا تھا۔ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی نے بھارتی ٹیم کو ٹرافی دینے کی کوشش کی مگر بھارتی کھلاڑی اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ بی سی سی آئی نے اے سی سی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا کہ ٹیم ٹرافی نہیں لے گی، جس کے بعد اصل ٹرافی میدان سے واپس منگوا لی گئی اور اختتامی تقریب میں بھارتی ٹیم کسی اور ذریعے سے بھی ٹرافی وصول نہ کرسکی۔
ٹرافی نہ ملنے کے بعد بھارتی کھلاڑیوں نے سوشل میڈیا پر اپنی “فتح” کو نمایاں کرنے کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا۔ بھارتی بیٹر ابھیشیک شرما اور شبھمن گل نے اپنے اکاؤنٹس پر ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ ایک ٹرافی کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ تاہم یہ ٹرافی ٹورنامنٹ کی اصل ٹرافی نہیں بلکہ فرضی لگ رہی تھی۔
شائقین کرکٹ نے ان تصاویر پر سخت ردعمل دیا اور سوال اٹھایا کہ جب اصل ٹرافی ملی ہی نہیں تو فرضی تصاویر بنا کر کیا ثابت کیا جا رہا ہے؟ کئی صارفین نے ان پوسٹس کو "ہنسی کا سامان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل میں جیت صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ رویے سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھارتی ٹیم نے فائنل میچ کے بعد پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز کیا تھا۔ شائقین اور ماہرین کرکٹ کے مطابق بھارتی ٹیم کا یہ طرزِ عمل کھیل کی اسپرٹ کے خلاف اور کرکٹ جیسے معزز کھیل کے لیے منفی پیغام ہے۔
یہ معاملہ نہ صرف بھارت کے لیے شرمندگی کا باعث بنا بلکہ اے سی سی کے لیے بھی ایک چیلنج ہے، کیونکہ ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی دینا لازمی ہے۔ بھارتی ٹیم کے اس رویے پر اب تک کرکٹ کی کئی شخصیات بھی سوشل میڈیا پر اپنے تبصرے کر چکی ہیں اور بیشتر کا کہنا ہے کہ کھیل میں انا یا ضد کے بجائے احترام اور برداشت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

