اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نہیں بلکہ وزارت خزانہ کا ٹیکس پالیسی آفس تیار کرے گا۔
سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اٹارنی جنرل بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے صدارتی آرڈر کے خلاف اپیل کا معاملہ زیر بحث آیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف بی آر نے صدارتی آرڈر کو چیلنج کرکے اس پر عملدرآمد نہیں کیا، اس سلسلے میں اٹارنی جنرل کو کمیٹی میں بلایا گیا ہے۔ متاثرہ شہری کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر نے سندھ ہائیکورٹ میں صدارتی آرڈر کو چیلنج کیا حالانکہ قانون کے تحت صدر کے احکامات کی تعمیل لازم ہے، مگر ایف بی آر نے بار بار قانون شکنی کی۔
وکیل نے مزید کہا کہ وزیراعظم ہاؤس اور وزارت قانون کی واضح ہدایات بھی اس ضمن میں موجود تھیں۔ اٹارنی جنرل انور منصور اعوان نے وضاحت دی کہ اگر معاملہ گڈز کی کلاسیفکیشن کا ہو تو ایف ٹی او اپیل کرسکتا ہے، تاہم متاثرہ شہری نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی محتسب اور صدر کے احکامات پر ہر صورت عمل ہونا چاہیے، ان کی تشریح ادارے نہیں کرسکتے۔ کمیٹی نے اٹارنی جنرل کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت دی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کمیٹی کو معاشی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں میکرو اکنامک استحکام آچکا ہے۔ حکومت رواں سال نومبر میں ابتدائی طور پر 25 کروڑ ڈالر کا پانڈا بانڈ جاری کرے گی جبکہ مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز متعارف کروائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کر چکی ہے جبکہ اپریل 2026 میں 1.3 ارب ڈالر کی بروقت ادائیگی کے انتظامات بھی کرلیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے ثمرات سے معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا کیونکہ ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے نکال کر وزارت خزانہ کے ٹیکس پالیسی آفس کے سپرد کردیا گیا ہے جو پورا سال بجٹ پر مشاورت کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم خود ایف بی آر ٹرانسفارمیشن کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس پر ماہانہ و ہفتہ وار رپورٹس طلب کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی سمت اب درست ہے اور جلد ٹیکس پالیسی آفس مکمل طور پر فعال ہوجائے گا۔

