غزہ کی جانب امداد لے جانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا” پر اسرائیلی فوج نے دھاوا بول دیا، جس میں شریک متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان اور عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی فوجی کشتیوں نے 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا کو گھیرے میں لے کر بعض کشتیوں پر پانی کی توپیں چلائیں۔ منتظمین کے مطابق اسرائیلی اہلکار ایک جہاز پر سوار ہو گئے اور وہاں موجود تمام افراد کو حراست میں لے لیا۔ کئی دیگر کشتیوں سے رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے، خاص طور پر کشتی *دیر یاسین* اور *الما* پر سائبر حملوں کے بعد ان کا جی پی ایس اور انٹرنیٹ سسٹم ناکارہ بنا دیا گیا۔ ترک کارکن متیہان ساری کے مطابق اسرائیلی بحری جہاز ان کے جہاز سے محض 5 سے 10 میٹر کے فاصلے تک آ گئے تھے اور ڈرانے دھمکانے کی کوشش کرتے رہے۔
پاک فلسطین فورم نے تصدیق کی ہے کہ مشتاق احمد خان اسرائیلی فورسز کی حراست میں ہیں اور اس گرفتاری کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے اس کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض افواج کا یہ رویہ ناقابل قبول ہے، اور انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کرایا جائے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق گرفتار افراد کو اسرائیلی پورٹ پر منتقل کر کے بعد میں ملک بدر کر دیا جائے گا۔ جاری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوج ریڈیو پر فلوٹیلا کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ اپنا رخ اشدود کی بندرگاہ کی جانب موڑ لیں جہاں سے امداد غزہ منتقل کی جائے گی۔
فلوٹیلا کے منتظمین نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود قافلے کی تقریباً 30 کشتیاں اب بھی غزہ کی طرف رواں دواں ہیں اور وہ غزہ کی سمندری حدود سے صرف 85 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔ ان کشتیوں پر خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان موجود ہے جس کا مقصد صرف محصور فلسطینی عوام تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلوٹیلا کے تحفظ کو یقینی بنائے اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کرے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر دنیا بھر میں اسرائیلی محاصرے اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر عالمی سطح پر بحث اور تنقید کو مزید تیز کر رہا ہے۔
