آئی سی سی ویمن ورلڈکپ کے تیسرے میچ میں بنگلادیش نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی۔
یہ میچ سری لنکا کے شہر کولمبو میں کھیلا گیا جہاں پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، لیکن ٹیم اس فیصلے سے فائدہ نہ اٹھا سکی۔ پاکستان کا آغاز ہی تباہ کن رہا۔ پہلی ہی اوور میں بنگلادیشی باؤلر معروفہ اختر نے عمیمہ سہیل اور سدرہ امین کو بغیر کھاتہ کھولے آؤٹ کر کے پاکستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ اس کے بعد منیبہ علی اور رامین شمیم نے 42 رنز کی شراکت قائم کی، تاہم یہ پارٹنرشپ بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ رامین نے 39 گیندوں پر 23 رنز بنائے جبکہ منیبہ علی نے 17 رنز کا اضافہ کیا۔ اس کے بعد آنے والی بیٹرز بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکیں۔ عالیہ ریاض 13، سدرہ نواز 15 اور کپتان فاطمہ 22 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئیں۔
پاکستانی بیٹنگ لائن بار بار لڑکھڑاتی رہی اور 29.3 اوورز میں صرف 100 رنز پر 7 وکٹیں گر چکی تھیں۔ آخر میں ڈیانا بیگ نے نمبر 9 پر آ کر 16 رنز کی ناقابل شکست اننگ کھیلی جس کی بدولت ٹیم 39 ویں اوور میں 129 رنز تک پہنچ سکی۔ بنگلادیش کی جانب سے نشیتا اختر نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے 3.3 اوورز میں صرف 5 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ معروفہ اختر اور ناہیدہ اختر نے 2،2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ربیعہ خان نے ایک وکٹ لی۔
جواب میں بنگلادیش نے ہدف کا آغاز پراعتماد انداز میں کیا۔ اگرچہ ابتدائی وکٹیں جلد گر گئیں مگر ٹیم نے اپنا تسلط قائم رکھا۔ بائیں ہاتھ کی اوپنر روبیہ حیدر نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 77 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 54 رنز بنائے۔ کپتان نگار سلطانہ نے بھی ذمہ دارانہ اننگ کھیلی اور 44 گیندوں پر 23 رنز اسکور کیے۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کی شراکت 62 رنز رہی جو میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوئی۔
اس کے علاوہ سوبھانا موستاری نے صرف 19 گیندوں پر جارحانہ انداز میں 24 رنز بنائے اور ٹیم کو جیت کے قریب پہنچا دیا۔ یوں بنگلادیش نے مقررہ ہدف 3 وکٹوں کے نقصان پر با آسانی حاصل کر لیا۔ پاکستان کی جانب سے رامین شمیم، ڈیانا بیگ اور کپتان فاطمہ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
یہ شکست پاکستان کے لیے مایوس کن ثابت ہوئی کیونکہ ٹیم کی بیٹنگ کارکردگی ٹورنامنٹ کے تیسرے ہی میچ میں سوالیہ نشان بن گئی ہے، جبکہ بنگلادیش نے جیت کے ساتھ اپنے اعتماد اور پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن دونوں کو مستحکم کر لیا۔

