آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو ختم کرنے اور مسائل کا حل نکالنے کے لیے حکومتی سطح پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اس سلسلے میں سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد مظفر آباد پہنچا، جہاں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں سے مذاکرات کیے گئے۔ اس وفد میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق، وفاقی وزرا رانا ثنااللہ، طارق فضل چوہدری، احسن اقبال، امیر مقام، سردار یوسف اور قمر زمان کائرہ بھی شامل تھے۔ حکومتی وفد نے احتجاج کو ختم کرنے اور کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ طویل گفتگو کی۔
ابتدائی مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ آزاد کشمیر میں امن قائم رہے کیونکہ دشمن ملک پاکستان کے اندر کسی بھی عدم استحکام سے فوری طور پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامن طریقے سے مسائل کو حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات کو ضرور سنا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افہام و تفہیم کے ذریعے ہی اس بحران کا دیرپا حل ممکن ہے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے اس موقع پر کہا کہ بات چیت نہایت اچھے ماحول میں ہوئی ہے اور یہ ایک مثبت آغاز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے رہنماؤں نے مزید مشاورت کے لیے اپنے دیگر ساتھیوں سے وقت مانگا ہے، جس کے بعد دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم اپنے ساتھیوں کے جائز مطالبات میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور وزیراعظم شہباز شریف خود اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مذاکراتی ٹیم کی روانگی سے قبل احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات سننے کے لیے مظفر آباد آیا گیا ہے، کیونکہ اس وقت ایسے عناصر متحرک ہیں جو پاکستان کے امن اور استحکام کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار نے بھی کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بیرون ملک ہونے کے باوجود فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا اور کمیٹی سے مذاکرات کے عمل کو بحال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جن مطالبات پر اتفاق نہیں ہو سکا، ان پر مزید بات چیت جاری رہے گی۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات سے ممکن ہے اور کوشش ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو حالات کو معمول پر لایا جائے۔ اسی دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات پہلے ہی تسلیم کر لیے گئے ہیں اور باقی پر بھی پیش رفت جاری ہے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد مظاہروں کے نتیجے میں اب تک تین پولیس اہلکاروں سمیت چھ عام شہری جاں بحق جبکہ 72 پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔ مظاہروں کے دوران سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا، جس سے حالات مزید کشیدہ ہوگئے تھے۔ تاہم حکومتی سطح پر مذاکرات کی بحالی سے اب اس بات کی امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ بحران بات چیت کے ذریعے ختم کیا جا سکے گا۔

