قومی اسمبلی کے اجلاس میں سیاسی ہلچل دیکھنے میں آئی جب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیان کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی نے بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس جاری تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے مریم نواز کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایوان سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نوید قمر نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی ایوان میں احتجاج ریکارڈ کرایا تھا، اس کے بعد حکومتی ٹیم نے ہم سے مذاکرات کیے لیکن حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے اور ہمارے تحفظات دور نہیں کیے جاتے، ہم ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے۔
بعد ازاں حکومتی وزراء اور مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں سے بات کی اور انہیں مناکر دوبارہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں لے آئے۔ یہ واقعہ حکومتی اتحاد میں بڑھتے ہوئے اختلافات اور تناؤ کو اجاگر کرتا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنے سیاسی مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی پنجاب کے خلاف بات کرے گا تو بطور وزیر اعلیٰ وہ خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران عالمی امداد لینے کا مشورہ دیا گیا تھا لیکن وہ اپنے عوام کو کشکول پکڑنے پر مجبور نہیں کریں گی اور نہ ہی کسی سے معافی مانگیں گی۔
مریم نواز کے اسی سخت مؤقف پر پیپلز پارٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور وزیر اعظم کو شکایت کرنے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔
دوسری جانب صحافی برادری بھی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پولیس کے دھاوے اور تشدد کے خلاف پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں نے نہ صرف صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ املاک کی توڑ پھوڑ بھی کی جس پر ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
سیاسی اور صحافتی حلقوں میں جاری ان احتجاجی اقدامات نے حکومت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے جس سے حکومتی اتحاد میں دراڑیں مزید نمایاں ہونے لگی ہیں۔

