کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی سے متعلق جامعہ کراچی کا فیصلہ معطل کردیا۔ یہ فیصلہ جسٹس جہانگیری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران سامنے آیا۔
سماعت کے دوران جامعہ کراچی کے رجسٹرار پروفیسر عمران صدیقی عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ انہیں حال ہی میں نوٹس موصول ہوا ہے، اس لیے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔ اس پر جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ اگر جواب جمع ہونے تک درخواست گزار کے خلاف کارروائی جاری رہی تو اس کا ذمے دار کون ہوگا؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ یہاں ایک شخص کی پوری زندگی کی محنت اور کمائی داؤ پر لگی ہے، ڈگری جیسے معاملے میں متاثرہ فریق کو سنے بغیر کارروائی کرنا درست نہیں۔
درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے عدالت سے استدعا کی کہ جامعہ کراچی کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی جائے لیکن اس دوران ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل کردیا جائے۔ جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ اگر بعد میں یہ فیصلہ واپس ہوجائے تو درخواست گزار کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی معاملے میں فریقین کو سنے بغیر کیے گئے فیصلے کی قانونی حیثیت محدود ہوتی ہے اور ایسے فیصلے کو ایکس پارٹی ججمنٹ کہا جاتا ہے جو مضبوط نہیں سمجھا جاتا۔
سماعت کے بعد عدالت نے جامعہ کراچی کے 26 ستمبر کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے کیس کی مزید کارروائی 20 نومبر تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ جامعہ کراچی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی قانون کی ڈگری 26 ستمبر کو منسوخ کی تھی، جس پر ملک کی عدالتی برادری میں بھی سوالات اٹھائے گئے تھے اور اس فیصلے کو متنازع قرار دیا جا رہا تھا۔ اب سندھ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد معاملہ مزید قانونی جانچ پڑتال کے مراحل میں داخل ہوگیا ہے۔

