غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی، وہ اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی۔
حماس کے سینئر رکن محمد نزال نے ایک انٹرویو میں اسرائیل کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ فلسطینی مزاحمت ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہو جائے۔ ان کے مطابق اسرائیل کی شرط کہ حماس پہلے ہتھیار ڈالے اور بعد میں ریاست کے قیام پر بات ہو، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ محمد نزال نے کہا کہ تاریخ میں کسی بھی آزادی کی تحریک نے آزادی حاصل کرنے سے پہلے اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے۔ انہوں نے بطور مثال جنوبی افریقہ، افغانستان، ویتنام، الجزائر اور آئرلینڈ کی تحریکوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ حماس بھی اپنے ہتھیار تبھی رکھے گی جب فلسطین ایک آزاد اور مکمل ریاست بن جائے گا۔
محمد نزال نے یہ بھی کہا کہ حماس امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے پر غور کر رہی ہے اور جلد ہی تنظیم اپنا باضابطہ موقف جاری کرے گی تاکہ جنگ کے خاتمے کی کوئی راہ نکل سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس بطور مزاحمتی قوت فلسطینی عوام کے مفاد میں فیصلے کرنے کا حق رکھتی ہے اور کسی بھی دباؤ میں آکر اپنی بنیادی شرائط کو ترک نہیں کرے گی۔
امریکی صدر کے منصوبے میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ، اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک عبوری حکومت کے قیام کی تجاویز شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی حکومت نے حماس کو اس منصوبے پر جواب دینے کے لیے چند روز کا الٹی میٹم بھی دیا ہے۔ تاہم حماس نے براہِ راست کوئی جواب دینے کے بجائے یہ کہا ہے کہ فیصلہ فلسطینی عوام کے اجتماعی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔
ماضی میں بھی حماس کا مؤقف یہی رہا ہے کہ وہ صرف اس صورت میں کسی منصوبے کو قبول کرے گی جب اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرے، مستقل جنگ بندی کی ضمانت دی جائے اور بے گھر فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں میں واپسی کا حق فراہم کیا جائے۔ حماس کے مطابق ان بنیادی نکات کو شامل کیے بغیر کوئی بھی منصوبہ پائیدار امن کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

