آزاد کشمیر کی عوام اور عوامی ایکشن کمیٹی نے 38 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے جس میں حکومت سے عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے مطالبات کیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے گندم اور آٹے پر سبسڈی کو مستقل کرنے اور بجلی کے نرخ مزید کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسی طرح کمرشل ٹریفک ریٹس کے خاتمے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کی بروقت ادائیگی اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقل بحالی کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔
ایجنڈے میں پنشن اور گریجوایٹی کے مسائل کے فوری حل، مقامی نوجوانوں کو روزگار میں ترجیح دینے اور کوٹے کے نفاذ پر زور دیا گیا ہے۔ یکساں اور مفت تعلیم کی فراہمی، صحت کی سہولیات اور ادویات کو فری کرنے کے ساتھ ساتھ بڑے منصوبوں جیسے ایکسپریس ویز، ٹنلز اور پلوں کی تکمیل کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے۔ مقامی ٹرانسپورٹ کو سہولیات اور سبسڈی دینے، پانی اور زراعت کے مسائل حل کرنے اور ہائیڈل منصوبوں کو مقامی کنٹرول میں دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے اسمبلی میں مخصوص مہاجر نشستوں کے خاتمے یا ازسرنو جائزے کی تجویز دی ہے۔ اشرافیہ کی غیر ضروری مراعات اور خصوصی پنشنز ختم کرنے، کرپشن کے خاتمے، سرکاری اخراجات میں کمی اور بلدیاتی نمائندوں کو حقیقی اختیارات دینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ طلبہ یونین کے انتخابات کی بحالی، تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور طلبہ کو پالیسی سازی میں شامل کرنے، اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف اور گرانٹس بڑھانے، سستے ہاؤسنگ منصوبے شروع کرنے اور ہاؤسنگ بینک قائم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔
ایجنڈے میں معذوروں، بیواؤں اور یتیموں کو خصوصی مراعات دینے، اجرت اور تنخواہوں کو مہنگائی کے مطابق مقرر کرنے اور سرکاری ملازمین کی ترقی، پوسٹنگ اور پروموشن کے اصولوں کو بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ امتحانات اور ملازمت کے ٹیسٹ کو شفاف بنانے، پاور پراجیکٹس میں مقامی مزدوروں کو مراعات دینے اور احتجاج کے آئینی حق پر پابندیاں ختم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے سرکاری نوکریوں میں غیر مقامی افراد کے کوٹے کے خاتمے، امتحانی نظام میں شفافیت، سرکاری مراعات میں کمی، حلقہ بندیوں اور نمائندگی کے نظام کے جائزے اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر زور دیا ہے۔ نوجوانوں اور خواتین کو سیاسی عمل میں شمولیت دینے، ٹرانسپورٹ روٹس اور کرایوں میں اصلاحات لانے، چھوٹے تاجروں اور کسانوں کو ٹیکس ریلیف دینے اور مزدوروں کو مہنگائی کے دوران اجرتی تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
مزید برآں، اجرت اور ملازمت کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنے، وفاقی حکومت کی مداخلت کم کرنے اور آزاد کشمیر کو مالی و انتظامی طور پر زیادہ خود مختار بنانے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ایک طرف کشمیری عوام آزاد کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک جیسی سہولیات اور مفت سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ آزاد کشمیر میں پہلے ہی بجلی صرف 3 روپے فی یونٹ اور آٹا سبسڈی پر فراہم کیا جا رہا ہے۔ دیگر مراعات بھی عام پاکستانی شہریوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان اس وقت مہنگائی، بیروزگاری اور غربت جیسے مسائل کا سامنا کرنے کے باوجود آزاد کشمیر کو سکیورٹی فراہم کرنے اور معیشت میں اربوں روپے کی سبسڈی دینے پر مجبور ہے۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر کے مقابلے میں پاکستان آزاد کشمیر کے عوام کو کئی گنا زیادہ سہولتیں اور ریلیف فراہم کر رہا ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

