ترک صدر رجب طیب اردوان نے جمعرات کے روز تاریخ کے عظیم فاتح اور حکمران صلاح الدین ایوبی کو بیت المقدس کی فتح کی 838 ویں سالگرہ کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ترک خبررساں ایجنسی کے مطابق صدر اردوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس مقدس شہر کے دوسرے فاتح صلاح الدین ایوبی اور ان کے بہادر فوجیوں کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ میں ایک عظیم باب رقم کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ *بیت المقدس کے لیے ہم عزم اور ثابت قدمی کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں گے، جو ہمارے پاس حضرت محمد ﷺ اور ان سے پہلے آنے والے انبیا کی امانت ہے*۔
بیت المقدس کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے جو اسلام، مسیحیت اور یہودیت تینوں مذاہب کے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے۔ یہ شہر پہلی بار 638 عیسوی میں دوسرے خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ کے دور میں مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ بعد ازاں 1099 میں صلیبیوں نے اس پر قبضہ کر لیا، لیکن 2 اکتوبر 1187 کو صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو دوبارہ فتح کیا۔
صلاح الدین ایوبی کی عظیم فتح کے بعد 1917 تک یہ شہر تقریباً مسلسل مسلمانوں کے زیرِ اقتدار رہا، سوائے چند سالوں کے۔ 9 دسمبر 1917 کو برطانیہ نے سلطنتِ عثمانیہ سے بیت المقدس پر قبضہ کیا۔ اس وقت فلسطین میں یہودی آبادی لگ بھگ 60 ہزار تھی جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت بڑھ کر 8 لاکھ تک جا پہنچی۔
14 مئی 1948 کو اسرائیل نے اپنے قیام کا اعلان کیا جس کے اگلے ہی دن مصر، اردن، لبنان اور شام سمیت عرب ممالک نے جنگ چھیڑ دی۔ اسرائیل نے جنگ جیتنے کے بعد بیت المقدس کے حصے پر قبضہ کر لیا اور رفتہ رفتہ مغربی یروشلم کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ 1967 کی 6 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے پر بھی قبضہ کر لیا۔
3 جولائی 1980 کو اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دیا۔ بعدازاں 6 دسمبر 2017 کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا اور 14 مئی 2018 کو امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا۔
صدر اردوان کے مطابق صلاح الدین ایوبی کی فتح صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ اسلامی دنیا کے اتحاد، مزاحمت اور عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کے ایمان اور ورثے کا لازمی حصہ ہے اور اس کے دفاع کے لیے ترک عوام ہمیشہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

