غزہ : حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے پر جواب جمع کرانے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج کی وحشیانہ جارحیت نہ رک سکی۔ تازہ فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 72 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
عرب میڈیا کے مطابق صیہونی فوج نے غزہ سٹی میں پناہ گزین کیمپوں اور گھنی آبادی والے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ شہادتوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
قابض فوج نے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے نیا ہولناک حربہ اختیار کیا ہے۔ فضائی بمباری کے بعد اب دھماکا خیز مواد سے بھری ریموٹ کنٹرول گاڑیوں کے ذریعے بستیوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ گاڑیاں ریموٹ سے کنٹرول کر کے عمارتوں اور گلیوں میں داخل کی جاتی ہیں اور پھر دھماکے سے اڑا دی جاتی ہیں، جس سے تباہی میں کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے محصور فلسطینیوں کو علاقہ خالی کرنے کے لیے "آخری موقع” دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود لاکھوں شہری اب بھی غزہ میں محصور ہیں اور نکلنے کے کوئی محفوظ راستے میسر نہیں۔
الجزیرہ ٹی وی کے مطابق غزہ شہر کے الحلو انٹرنیشنل اسپتال میں ایک نومولود بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ اسپتال کے طبی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی کارروائیوں میں شدت کے باعث وہاں موجود بچوں کو دوسرے مراکز میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ تین قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ مزید دس بچوں کو فوری طور پر نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔
فلسطینی وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی جارحیت اسی طرح جاری رہی تو اسپتالوں میں علاج کی سہولیات مکمل طور پر ناکام ہو جائیں گی، جس سے مزید انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

