وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی امن منصوبے پر حماس کے مثبت جواب کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’الحمدللہ، فلسطین میں جنگ بندی کے قریب ہیں۔‘‘
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ اور برادر اسلامی ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن، مصر اور انڈونیشیا کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حماس کے بیان سے جنگ بندی کی نئی راہ ہموار ہوئی ہے اور پاکستان تمام برادر ممالک کے ساتھ مل کر امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ موقع غزہ میں یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے اہم ہے، ساتھ ہی غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہا ہے اور اسرائیل کو فوری طور پر حملے بند کرنے چاہئیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق امید کی جاتی ہے کہ یہ کوششیں دیرپا جنگ بندی اور مستقل امن کی راہ ہموار کریں گی۔ پاکستان ایک تعمیری اور بامعنی کردار ادا کرتا رہے گا اور فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ایک خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کرتے ہوئے حماس کو اتوار تک کا الٹی میٹم دیا تھا۔ حماس کی جانب سے اس منصوبے کی کئی شقوں پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں مزید تیز ہو جائیں گی۔
