اسلام آباد: سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دی جانے والی دھمکیاں محض گیدڑ بھپکیاں ہیں، مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ذرائع نے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو اس کا علاج پہلے سے بھی زیادہ بہتر انداز میں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کی باتوں پر یقین نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ کریڈیبل نہیں ہیں۔ معرکہ حق کے بعد بھارت نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے تاہم پاکستان کو اس بات کی مکمل اطلاع ہے کہ بھارت کون سا اسلحہ خرید رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کو کسی قسم کی فکر یا تشویش نہیں ہے، افواج پاکستان ہر لمحہ جواب دینے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی صورتحال کے حل کا کریڈٹ سیاسی قیادت کو جاتا ہے اور کشمیری عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے بارے میں پاکستان کا مؤقف بالکل واضح اور اٹل ہے، اسرائیل سے متعلق مؤقف تبدیل نہیں ہوسکتا اور غزہ میں جاری ظلم و بربریت اور نسل کشی کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو معاشی اور اسٹریٹیجک دونوں حوالوں سے اہم ہے۔ پسنی پورٹ اور دیگر منصوبوں کے حوالے سے کئی پروپوزل موصول ہوئے ہیں جبکہ عالمی کمپنیاں پاکستان میں معدنیات اور دھاتوں کی تلاش میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں اسمگلنگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اب قانونی طریقے سے ڈیزل درآمد کیا جا رہا ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس سال 15 ستمبر تک 1422 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز 57 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر چکی ہیں، جن میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے 118 دہشت گرد بھی مارے گئے۔

