اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی اعلیٰ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اشتعال انگیز بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دفعہ بھارت ان شاءاللہ اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا۔
انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا کہ بھارتی فوجی اور سیاسی قیادت کے بیانات اپنی خاک میں ملی ساکھ کو بحال کرنے کی ناکام کوشش ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اتنی فیصلہ کن شکست کے بعد، جس کا اسکور 0-6 رہا ہو، اگر دوبارہ کوشش کی گئی تو اس بار اسکور پہلے سے کہیں بہتر ہوگا۔ ان کے بقول بھارت میں عوامی رائے نے حکومت کی ساکھ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے اور اس کا دباؤ قیادت کے بیانات میں نظر آ رہا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ "پاکستان اللہ کے نام پہ بنی ریاست ہے، ہمارے محافظ اللہ کے سپاہی ہیں، اس دفعہ بھارت ان شاءاللہ اپنے طیاروں کے ملبے میں دفن ہوگا۔”
اس سے قبل ترجمان پاک فوج نے بھی بھارتی سکیورٹی اداروں کے جارحانہ اور اشتعال انگیز بیانات کو تشویش کے ساتھ نوٹ کیا اور انہیں غیر ذمہ دارانہ قرار دیا تھا۔ ترجمان نے کہا کہ ایسے بیانات جنوبی ایشیا میں امن کے لیے سنگین خدشات پیدا کر سکتے ہیں اور یہ جارحیت کے لیے بنائے جانے والے بے بنیاد بہانوں کی نئی کوشش ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے بھی بھارتی بیانات کو محض "گیدڑ بھپکیاں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج اپنے ملک کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی صورت میں اپنا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال کے حل کا کریڈٹ سیاسی قیادت کو جاتا ہے اور کشمیری عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کا فلسطین اور کشمیر کے بارے میں مؤقف واضح اور اٹل ہے، اور اسرائیل کے خلاف موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کی اہمیت، پسنی پورٹ سمیت ترقیاتی منصوبوں کے پروپوزلز، بلوچستان میں اسمگلنگ کے خلاف کامیاب کارروائیوں، اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے اعدادوشمار بھی اجاگر کیے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس سال 15 ستمبر تک 1422 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں اور سکیورٹی فورسز نے 57 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی رابطہ نہیں رہا اور نہ ہی وہ سیاسی معاملات میں مداخلت چاہتی ہے، جبکہ 9 مئی کے کیسز کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔

