کولمبو: آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ 2025 میں دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان ویمنز ٹیم کو 107 رنز کے بڑے مارجن سے شکست دے دی، جس کے ساتھ ہی گرین شرٹس کی ایونٹ میں یہ مسلسل تیسری ناکامی ثابت ہوئی۔
کولمبو میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان ویمنز ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے آسٹریلیا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستانی بولرز نے شاندار آغاز کیا اور صرف 76 رنز پر آسٹریلیا کی 7 وکٹیں گرا کر ٹیم کو مشکلات میں ڈال دیا۔ تاہم، آسٹریلوی بیٹر بیتھ مونی نے ذمہ دارانہ اور شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری اسکور کی جبکہ الانا کنگ نے 51 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کو سہارا دیا۔ دونوں کے درمیان نویں وکٹ پر 106 رنز کی قیمتی شراکت نے آسٹریلیا کی اننگز کو سہارا دیا اور مقررہ 50 اوورز میں مجموعی طور پر 9 وکٹوں کے نقصان پر 221 رنز بنا لیے۔
پاکستان کی جانب سے بولنگ کے شعبے میں نشرہ سندھو نمایاں رہیں جنہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ فاطمہ ثنا اور رامین شمیم نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ایک موقع پر میچ مکمل طور پر پاکستان کے حق میں نظر آ رہا تھا مگر نچلے آرڈر کی شراکت داری نے مقابلہ آسٹریلیا کے حق میں پلٹ دیا۔
222 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر بری طرح ناکام رہی۔ قومی ٹیم کی پہلی وکٹ صرف 8 رنز پر گر گئی اور جلد ہی آدھی ٹیم 31 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ سدرہ امین نے 35 رنز کی مزاحمتی اننگز کھیلی، مگر کوئی اور کھلاڑی نمایاں کارکردگی نہ دکھا سکی۔ پوری ٹیم 37ویں اوور میں صرف 114 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
آسٹریلیا کی جانب سے بولنگ میں کم گیرتھ سب سے کامیاب بولر رہیں جنہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دیگر بولرز نے بھی بھرپور سپورٹ فراہم کی۔ آسٹریلیا کی یہ جیت انہیں پوائنٹس ٹیبل پر مضبوط پوزیشن میں لے آئی ہے جبکہ پاکستان ویمنز ٹیم کو اب سیمی فائنل میں رسائی کے لیے بقیہ تمام میچز جیتنے کی ضرورت ہوگی۔
واضح رہے کہ پاکستان ویمنز ٹیم کو اس سے قبل ایونٹ میں بنگلادیش اور بھارت کے خلاف بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مسلسل تین ناکامیوں کے بعد ٹیم کے بیٹنگ آرڈر، حکمتِ عملی اور فیلڈنگ کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی ویمنز ٹیم کو اگر اگلے میچوں میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو بیٹنگ لائن میں تسلسل، اعتماد اور شراکت داریوں کی اشد ضرورت ہے۔

