اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیر کی بڑی وجوہات بیرونی مالیاتی یقین دہانیوں میں ناکامی اور گورننس و کرپشن ڈائیگناسٹک اسسمنٹ (GCD) رپورٹ کے اجرا میں تاخیر قرار دی جا رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں سے متعلق نو جدولوں میں سے توازنِ ادائیگی اور بیرونی مالیاتی ضروریات سے متعلق اُمور تاحال حل طلب ہیں۔ اعلیٰ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان جدولوں کو آئندہ ہفتے مکمل کیے جانے کی اُمید ہے۔
GCD رپورٹ کو ایک ساختی معیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن وہ ابھی جاری نہیں ہوئی، جبکہ حالیہ سیلابی نقصانات کی مکمل تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں، جس کے باعث آئی ایم ایف حتمی تخمینوں کے انتظار میں ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اس معاملے پر سرکاری موقف دینے سے گریز کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے توازنِ ادائیگی اور بیرونی مالیاتی اُمور کو جدول نمبر 3 کا حصہ قرار دیا ہے، کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اسی لیے فنڈ نے کثیرالقومی اور دو طرفہ قرض دہندگان سے مالیاتی تصدیق طلب کر رکھی ہے۔
واشنگٹن سے جاری بیان کے مطابق، ایوا پیٹرووا کی قیادت میں آئی ایم ایف کا وفد 24 ستمبر سے 8 اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد کے دورے پر رہا۔ وفد نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) کے دوسرے جائزے اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے پہلے جائزے پر تفصیلی بات چیت کی۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان پروگرام پر مضبوطی سے عمل درآمد کر رہا ہے اور مجموعی پیش رفت حکومتی وعدوں سے ہم آہنگ ہے۔ حکام کو اُمید ہے کہ باقی معاملات آئندہ 7 سے 15 دن میں طے پا جائیں گے، جس کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ کسی بھی وقت دستخط ہوسکتا ہے۔

