وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں امنِ عامہ یقینی بنانے کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کو جدید تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پشاور میں منعقدہ اجلاس کے دوران وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ایف سی کے جوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت فراہم کی جائے گی اور انہیں بیرونِ ملک تربیتی پروگراموں میں بھیجا جائے گا تاکہ وہ جدید سکیورٹی تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ایف سی کو پاکستان کی صفِ اول کی فورس بنانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اجلاس کے دوران ایف سی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی قربانیوں کو ملک کے امن و استحکام کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔
بعد ازاں وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے اسلام آباد کے علاقے فیض آباد کا دورہ کیا اور سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع پر وزیرِ داخلہ نے اسلام آباد پولیس اور فیڈرل کانسٹیبلری کے جوانوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں سے کھانے پینے کی فراہمی کے بارے میں بھی استفسار کیا اور ہدایت دی کہ جوانوں کے لیے بہترین سہولیات یقینی بنائی جائیں۔

