رحیم یار خان: امیر بالاج ٹرکان والا قتل کیس کا مرکزی ملزم خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ پولیس کے مبینہ مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ رحیم یار خان کے نواحی علاقے میں پیش آیا جہاں ملزم کو تفتیش کے لیے منتقل کیا جا رہا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق سی سی ڈی (کریمنل کرائم ڈیپارٹمنٹ) کے اہلکار طیفی بٹ کو لاہور سے رحیم یار خان لے جا رہے تھے جب دورانِ سفر مبینہ طور پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہوگیا۔ تاہم واقعے کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق طیفی بٹ کو گزشتہ روز ہی دبئی سے لاہور منتقل کیا گیا تھا۔ وہ طویل عرصے سے متحدہ عرب امارات میں مقیم تھا اور انٹرپول کی مدد سے گرفتاری کے بعد پاکستان لایا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزم پر امیر بالاج ٹرکان والا قتل کیس سمیت متعدد قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور جائیدادوں پر قبضے کے مقدمات درج تھے۔
واضح رہے کہ امیر بالاج ٹرکان والا چند ماہ قبل لاہور میں فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہوگئے تھے، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کے دوران خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ کو اس کیس کا مرکزی ملزم نامزد کیا تھا۔ طیفی بٹ مبینہ طور پر ایک منظم گینگ چلا رہا تھا جو پنجاب کے مختلف شہروں میں زمینوں پر قبضے، دھمکیوں اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھا۔
دبئی میں گرفتاری کے بعد طیفی بٹ نے مقامی عدالت میں بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان واپس جا کر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس بیان کے بعد پاکستانی حکام نے قانونی کارروائی کے ذریعے ان کی حوالگی ممکن بنائی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلے کی جگہ سے اسلحہ اور گولیاں برآمد کر لی گئی ہیں جبکہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی انکوائری ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔ دوسری جانب مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ واقعہ “مبینہ مقابلہ” تھا اور اس کی حقیقت جاننے کے لیے سی سی ٹی وی اور عینی شاہدین کے بیانات پر انحصار کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق طیفی بٹ کا تعلق ایک بااثر خاندان سے تھا اور وہ ماضی میں بھی مختلف سیاسی شخصیات کے قریب سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو جرم کے بدلے تحفظ نہیں دیا جائے گا۔

