دبئی: دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (ڈی آئی ایف سی) کورٹ نے بھارتی بزنس مین بی آر شیٹی کے خلاف بڑا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بینک آف انڈیا کو 16 کروڑ 87 لاکھ درہم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
فیصلہ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کی مصالحتی عدالت کے جج جسٹس اینڈریو موران نے سنایا۔ اپنے فیصلے میں جج نے قرار دیا کہ بی آر شیٹی نے ذاتی ضمانت کے معاملے میں جھوٹ بولا اور ان کی گواہی کو ’’جھوٹ کا ناقابل یقین سلسلہ‘‘ قرار دیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بی آر شیٹی نے 2018 میں بینک آف انڈیا سے 50 ملین ڈالر کے قرض کے لیے ذاتی ضمانت پر حلف کے دوران غلط بیانی کی۔ عدالت نے شواہد کو ’’ناقابل تردید‘‘ قرار دیتے ہوئے بینک آف انڈیا کی دبئی برانچ کے حق میں فیصلہ سنایا اور بی آر شیٹی کو 16 کروڑ 78 لاکھ درہم فوری ادا کرنے کا حکم دیا۔
عدالت نے مزید ہدایت دی کہ اگر بی آر شیٹی مقررہ مدت میں رقم ادا نہیں کرتے تو انہیں 9 فیصد سالانہ سود ادا کرنا ہوگا، جو یومیہ تقریباً 11 ہزار 341 ڈالر بنتا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بی آر شیٹی کی کمپنی نے 2018 میں بڑے مالیاتی قرضوں کی تفصیلات چھپائیں، جب کہ 2020 میں 4 ارب ڈالر کے خفیہ قرضوں کے انکشاف کے بعد کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔
یاد رہے کہ بی آر شیٹی نے 1970 کی دہائی میں اسپتال قائم کر کے کاروباری دنیا میں قدم رکھا تھا۔ ان کی کمپنی بعد ازاں لندن اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہوئی اور اس کی مالیت 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ تاہم 2020 میں مالیاتی اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد بی آر شیٹی نے استعفیٰ دیا اور بھارت واپس چلے گئے۔
تحقیقات کے دوران ماہرین نے بی آر شیٹی کے دستخط کے نمونوں کی تصدیق بھی کی، جس سے ان کے بیان کو جھوٹا ثابت کیا گیا۔ عدالت نے اس بنیاد پر فیصلہ سناتے ہوئے بینک آف انڈیا کے حق میں مکمل ادائیگی اور سود کے احکامات جاری کیے۔

