غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مزید 4 ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہیں، جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رفح بارڈر کے راستے سے غزہ میں امدادی قافلوں کی آمد آج سے شروع ہو جائے گی۔
عرب میڈیا کے مطابق حماس نے رات گئے ریڈ کراس کی نگرانی میں 4 ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کیں۔ یہ اقدام غزہ امن معاہدے کے تحت کیا گیا، جس کے تحت اس سے قبل بھی حماس 4 ہلاک یرغمالیوں کی لاشیں اور 20 زندہ یرغمالیوں کو اسرائیل کے حوالے کر چکا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یرغمالیوں کی لاشیں ملنے کے بعد اسرائیل نے مصری سرحد سے متصل رفح بارڈر آج کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے ذریعے امدادی سامان اور طبی امداد کے قافلے غزہ پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ غزہ امن معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حماس کی قید سے رہا ہونے والے تمام 20 یرغمالی اچھی صحت میں ہیں، تاہم “یہ عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، ہمیں مزید کام کرنا ہے تاکہ تمام فریقین کو پائیدار امن مل سکے۔”
دوسری جانب غزہ کے مختلف علاقوں میں ملبے کے نیچے سے فلسطینی شہداء کی لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مقامی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 44 فلسطینیوں کی لاشیں ملبے سے برآمد کی گئی ہیں، جب کہ سینکڑوں زخمی اب بھی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

