کابل/اسلام آباد: افغان طالبان اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات نے افغان تاجروں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ سرحدی کشیدگی کے باعث افغانستان سے پاکستان آنے والے تجارتی ٹرک مختلف مقامات پر پھنس گئے ہیں، جس سے تازہ پھلوں اور سبزیوں کی بڑی مقدار ضائع ہونے لگی ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق، طورخم اور چمن بارڈر کے دونوں جانب درجنوں ٹرک کئی روز سے رکے ہوئے ہیں جن پر لدے انگور، انار اور ٹماٹر جیسی جلد خراب ہونے والی اشیاء گلنے سڑنے لگے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ نقصان کے خدشے کے پیش نظر وہ اپنا سامان افغانستان کی مقامی منڈیوں میں اونے پونے داموں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
تاجروں کے مطابق صرف انگوروں کے خراب ہونے سے لاکھوں افغانی روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جب کہ روزانہ درجنوں ٹرک مزید متاثر ہو رہے ہیں۔ بارڈر پر موجود ڈرائیوروں نے شکایت کی ہے کہ کئی دنوں سے وہ اپنی گاڑیوں سمیت انتظار میں ہیں مگر تجارتی راستے کھولنے کے لیے کوئی واضح اقدام نہیں کیا جا رہا۔
دوسری جانب افغان چیمبر آف کامرس نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بحال کیا جائے اور بارڈر پر موجود رکاوٹیں فوری ختم کی جائیں تاکہ دونوں ممالک کے تاجروں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کراچی کی بندرگاہوں سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی ٹرانسپورٹیشن روکنے کے احکامات جاری کیے تھے جس کے بعد درجنوں کنٹینرز پشاور، کوئٹہ اور دیگر راستوں پر کھڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سیکڑوں کنٹینرز گاڑیوں پر لوڈ ہیں، جب کہ ڈرائیور اور مزدور بارڈر کھلنے کے منتظر ہیں۔

